Al-Risala · December 1994 · page 50

Captain Islam is in command.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۵۰

ملاکہ بھیج دیجیے۔ چنانچہ انہوں نے مجھ کو بورڈنگ دے دیا اور میں تیزی سے چل کر جہاز کے اندر داخل ہو گیا۔ فلائٹ نمبر ۸۱۶ کے ذریعہ دہلی پہنچا۔

بظاہر خواہ کتنا ہی مایوسی کی صورت حال ہو۔ آدمی کو اپنی امید ختم نہیں کرنا چاہیے اور اپنی کوشش کو جاری رکھنا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ مایوسی کی آخری حد پر پہنچ کر بھی آدمی کے لیے امید کا وسیع دروازہ کھل جائے۔

جہاز کے اندر اعلانات شروع ہوئے: ایک اعلان ہوا تو اس کے الفاظ مجھے اس طرح سنائی دیے :

Captain Islam is in command.

ایک لمحہ کے لیے احساس ہوا کہ "اسلام" نے اچانک ظاہر ہو کر دوبارہ وقت کی زمام کارسنبھال لی ہے۔ مگر جب دوبارہ اعلان ہوا تو معلوم ہوا کہ اناؤنسر نے کیپٹن اسلام نہیں کہا تھا بلکہ کیپٹن او سوال کہا تھا ۔ میں نے سوچا کہ "مسٹر اسلام" کو کمانڈنگ حیثیت میں لانا کوئی اعلان کا معاملہ نہیں ، یہ تاریخی عوامل میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا معاملہ ہے۔ جب تک تاریخ میں تبدیلی پیدا نہ ہو اس وقت تک قیادت میں تبدیلی پیدا ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ دہلی پہنچ کر شہر کے لیے روانہ ہوا۔ ایک مقام پر لال بتی کی بنا پر گاڑی رکی۔ دیکھا تو سڑک کے کنارے لکھا ہوا تھا ۔ اسٹاپ لائن کو پار نہ کیجیے :

do not cross stop line.

یہ صرف سڑک کا اصول نہیں بلکہ پوری زندگی کا اصول ہے۔ زندگی کے سفر میں جگہ جگہ "اسٹاپ لائن" ہوتی ہے، اس اسٹاپ لائن پر رکنا ضروری ہے۔ جو آدمی ایسا نہ کرے اس کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page