Al-Risala · February 1994 · page 15

انسان کی طاقت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۵

اس کے بعد وہ نوجوان یہ طے کرتا کہ میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ کھولوں گا جہاں نوجوان طالب علموں کو عطیہ یا رشوت دیے بغیر داخلہ سکتا ہو۔ اگر وہ اس قسم کا فیصلہ کر کے اس کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیتا اور استقلال کے ساتھ اس مہم میں لگ جاتا تو عین ممکن تھا کہ وہ ایک نیا شاندار تعلیمی ادارہ بناسے میں کامیاب ہو جائے جہاں عطیہ کے بغیر صرف میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہو۔ اس دنیا میں ناکامی کا سب نے بڑا سبب بے حوصلگی ہے اور کامیابی کا سب سے بڑا راز حوصلہ مندی۔ مذکورہ نوجوان کی خود کشی کا سبب یہ تھا کہ وہ بے ہمت ہو گیا۔ اگر وہ بے ہمت نہ ہوتا۔ اور نئے تعلیمی ادارے کے قیام کو اپنا مشن بنا لیتا تو وہ دیکھتا کہ اسی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اس کی حمایت کریں، جو اس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں۔ پہلے تجربہ میں بظاہر وہ اکیلا ہو گیا تھا، مگر دوسرے تجربہ میں وہ اکیلا نہ رہتا۔ کسی شاعر نے صحیح کہا ہے کہ: سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں یہ شعر دہلی میں سب سے پہلے مجھے ایک تاجر نے سنایا تھا۔ وہ ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوا، مگر بعض اسباب سے اس کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ وہ بالکل اکیلا ہو گیا۔ اس کے پاس دہلی میں نہ گھر رہا اور نہ کاروبار۔

یہ حادثہ اس کے ساتھ نوجوانی کی عمر میں پیش آیا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ معمولی سامان لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ صبح سے شام تک وہ محنت کرتا۔ اس کے بعد بمشکل چند روپیہ کماتا، مگر ہر قسم کے ناموافق حالات کے باوجود اس نے اپنی محنت جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اس کو مددگار ملنے شروع ہو گئے۔

کسی تاجر نے اس کو ادھار مال دینا شروع کیا۔ کسی نے اس کو ایک دکان دلوا دی کسی نے گھر حاصل کرنے میں مدد کی۔ اس طرح وہ ایک کے بعد ایک زندگی کے زینے طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ دہلی کا ایک کامیاب تاجر بن گیا۔

آدمی اگر مستقل مزاجی کے ساتھ ایک راستہ کو پکڑلے۔ اور اپنی کے ساتھ وہ با اصول اور با کردار بھی ہو تو ایک نہ ایک دن وہ کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page