اچھا کردار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶
اچھا کردار
وہ کیا چیز ہے جو کسی سماج کو اچھا سماج بناتی ہے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے افراد کا اچھا کردار۔ جس سماج کے افراد میں اچھا کردار ہو وہ سماج اچھا سماج ہوگا، اور جس سماج کے افراد میں برا کردار ہو وہ سماج برا سماج بن جائے گا۔
اچھا کردار کون سا ہوتا ہے اور برا کردار کون سا۔ اس کی پہچان بہت آسان ہے۔ اچھے کردار والا انسان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اس کو خود اپنے لیے پسند ہے۔ اور برے کردار والا انسان وہ ہے جو اپنے لیے کچھ اور پسند کرے اور جب دوسرے کا معاملہ ہو تو وہ کچھ اور پسند کرنے لگے۔
ایک آدمی اپنے گھر سے نکل کر بازار میں گیا۔ وہاں کسی نے اس سے کڑوا بول بول دیا۔ آدمی کو کڑوا بول سن کر غصہ آگیا۔ وہ اس سے لڑنے لگا۔ اس کے بعد جب یہ آدمی اپنے گھر اور محلہ میں آیا تو وہ خود بھی گھر والوں سے اور محلہ والوں سے کڑوا بول بولنے لگا۔ حالانکہ اس کو اس تجربہ کے بعد سوچنا چاہیے تھا کہ کڑوا بول جب مجھ کو اچھا نہیں لگا تو دوسروں کو بھی وہ اچھا نہیں لگے گا۔ اگر میں اپنے بارہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھ سے میٹھا بول بولیں تو مجھے خود بھی ایسا بن جانا چاہیے کہ دوسرے لوگوں کو مجھ سے صرف میٹھا بول سننے کو ملے۔
انسان اکیلا نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کے درمیان مل جل کر زندگی گزارے۔ سب کی کامیابی میں ایک کی کامیابی ہے اور سب کی بربادی میں ایک کی بربادی۔ آدمی جب دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو گویا کہ وہ سماج میں ایسا ماحول بنا رہا ہے اور ایسی روایات قائم کر رہا ہے جبکہ دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی اس کو اچھے سلوک کا تحفہ دیا جائے۔ ایک آدمی جب جھوٹ بولے تو گویا کہ وہ دوسروں کو بھی جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک آدمی جب دوسرے کی چیز ہڑپ کر لے تو وہ اپنے اس عمل سے سماج میں ناجائز قبضہ کی روایت قائم کر رہا ہے۔ ایک آدمی جب وعدہ کرے اور وقت آنے پر وعدہ کو توڑ دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سارے سماج کو وعدہ توڑنے پر جری کر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues