آغاز و انجام
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۸
آغاز و انجام
اگر آپ نے اپنے آغاز کو پایا تو آپ اپنے اختتام کو بھی پاسکتے ہیں۔ کیونکہ صحیح آغاز ہی کا دوسرا نام صحیح اختتام ہے ۔ آدمی اگر صحیح رخ پر چل پڑے تو وہ منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔ منزل پر نہ پہنچنا ہمیشہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی نے اپنے سفر کا آغاز الٹی سمت میں کر دیا ہو۔ کائنات کا پورا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں جب بھی کوئی شخص ایک درست عمل کا آغاز کرے تو پوری کائنات اس کو تکمیل تک پہنچانے میں لگ جائے۔ باغبان ایک بیج زمین میں ڈالتا ہے تو دنیا کا پورا نظام اس کو پروان چڑھانے میں لگ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے کمال کے درجہ کو پہنچ کر پورا درخت بن کر کھڑا ہو جائے۔
اسی طرح اس دنیا میں جب کوئی آدمی ایک صحیح عمل کا آغاز کرتا ہے تو دنیا کا پورا نظام اس کی مدد پر آ جاتا ہے۔ ہر چیز اس کا ساتھ دینے لگتی ہے تاکہ وہ اپنے عمل کو اس کی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچائے۔
اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کا شروع کیا ہوا عمل ترقی نہیں کر رہا ہے تو اس کو خود اپنی کارکردگی اور اپنے منصوبہ پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔ یقینی طور پر اس کی اپنی طرف کوئی کوتاہی ہوگی۔ جس نے اس کے شروع کئے ہوئے عمل کو مطلوبہ انجام تک پہنچنے نہیں دیا۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ اقدام کرنے سے پہلے خوب اچھی طرح سوچ لے۔ وہ حقیقت پسندانہ جائزہ کے بعد اپنا منصوبہ بنائے۔ اور جب اپنے منصوبہ پر عمل درآمد شروع کرے تو اپنے آپ کو اس میں لگانے میں کوئی کمی نہ کرے۔ آدمی نے اگر ان شرطوں کو پورا کر دیا تو اس کے بعد مستقبل میں جو چیز برآمد ہوگی وہ وہی ہوگی جس کی طلب وہ اپنے سینہ کے اندر لئے ہوئے ہے۔ ڈور کے ابتدائی سرے کو پانا ہی ڈور کے آخری سرے کو پالینا ہے۔ ڈور کے ابتدائی سرے کو مضبوطی سے تھام لیجئے۔ اس کے بعد ڈور کا آخری سرا بھی آپ کے ہاتھ میں آ کر رہے گا۔ وہ آپ سے جدا ہونے والا نہیں۔
صحیح اختتام کے سوا صحیح آغاز کی اور کوئی منزل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues