Al-Risala · January 1994 · page 7

وقت کا استعمال

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۷

وقت کا استعمال

میں نے وقت کو برباد کیا تھا ، اب وقت مجھے برباد کر رہا ہے ــــــــ اگر آپ نے اپنے پچھلے دنوں میں وقت کو استعمال نہیں کیا ہے تو آپ اپنے اگلے دنوں میں اپنے وقت کو استعمال کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس طرح آپ کی بربادی بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ وقت کسی آدمی کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت اس لئے ہے کہ آدمی اس کو استعمال کرکے اپنے کو کامیابی کا اہل بنائے۔ جو آدمی وقت کو ضائع کرے اس نے صرف وقت کو ضائع نہیں کیا بلکہ خود اپنے آپ کو بھی ضائع کر دیا۔ کیوں کہ اس قسم کی غفلت کا نقصان اس کی اپنی ذات کے سوا کسی اور کو پہنچنے والا نہیں۔

جو وقت آپ کو ملا ہے اس کو یا تو اپنی تیاری میں استعمال کیجئے یا اپنے مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد میں۔ ۔ یہی وقت کا صحیح استعمال ہے۔ اگر ایسا ہے کہ آپ نہ تیاری میں لگے ہوائے ہیں اور نہ حصولِ مقصد کی جدوجہد میں ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔

طے ہوئے وقت کو ضائع کرنا بلا شبہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ یہ ایسا نقصان ہے جس کی کوئی تلافی ممکن نہیں۔ آپ کھوئی ہوئی دولت کو دوبارہ کما سکتے ہیں۔ مگر آپ کھوئے ہوئے وقت کو دوبارہ لوٹا کر اپنی طرف واپس نہیں لا سکتے۔

وقت دولت ہے ، بلکہ وقت ہی دولت ہے۔ وقت کے ذریعہ آپ دوسری چیزوں کو حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر آپ دوسری چیزوں کے ذریعہ وقت کو خرید نہیں سکتے۔ اس لئے آپ کو چاہئے کہ وقت کے معاملہ میں سب سے زیادہ چوکس رہیں ۔

وقت بھاگ رہا ہے ، وقت کو پکڑئے ، کیوں کہ وقت آپ کو نہیں پکڑے گا۔ آپ کو خود وقت کو پکڑنا ہوگا۔

جو آدمی وقت کو کھو دے ، اس کے حصہ میں آخر کار صرف یہ آئے گا کہ وہ وقت کو گزرتا ہو دیکھے مگر وہ اس کو استعمال نہ کرسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page