سنجیدگی شرط ہے
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰
سنجیدگی شرط ہے
لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، لمن كان يرجو الله واليوم الآخر وذكر الله اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا ( الاحزاب ۲۱) امیدوار ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے۔
قرآن کی اس آیت میں اللہ کے رسول کو لوگوں کے لیے بہترین نمونہ بتایا گیا ہے۔ بظاہر یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت کی کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے رسول میں اس شخص کو اپنے لیے نمونہ ملے گا جو قرآن و حدیث اور سیرت کی کتابوں کو پڑھے بلکہ یہ فرمایا کہ یہ نمونہ جو پورے معنوں میں بہترین نمونہ ہے، وہ صرف اس شخص کو ملے گا جو اللہ سے ڈرے، جو آخرت کے لیے فکرمند ہو، جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔
ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کا نمونہ جو کتابوں میں لکھا ہوا ہے وہ کوئی ریاضیاتی نوعیت کی چیز نہیں ہے۔ مثلاً کسی کتاب میں لکھا ہوا ہو کہ دو اور دو مل کر چار ہوتے ہیں، تو جو آدمی بھی اس کو کتاب میں پڑھے گا وہ اس کا ایک ہی مطلب نکالے گا۔ اس کو سمجھنے میں غلطی کرنے یا بھٹکنے کا کوئی امکان نہیں۔ مگر سیرت رسول کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ ایک ایسی چیز ہے جس میں ہمیشہ مختلف تعبیرات کی گنجائش رہتی ہے۔ اس لیے اس کو صحیح طور پر اخذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پوری طرح سنجیدہ ہو۔ ذہن پر اللہ کا تصور چھایا ہوا ہونا اور آخرت کے دن سے ڈرتے رہنا آدمی کے اندر بھی سنجیدگی پیدا کرتا ہے، اس لیے ایسا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ رسول کے نمونہ کو صحیح طور پر اخذ کر سکے۔
جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ کا نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر وہ دو اور دو چار کی طرح کوئی حسابی نوعیت کی چیز نہیں ہے۔ اس کا تعلق زندگی سے ہے۔ اور انسان کی زندگی ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ حرکت میں رہتی ہے۔ وہ مختلف احوال سے گزرتی ہے۔ اس میں کبھی ایک قسم کی صورت حال پیش آتی ہے اور کبھی دوسرے قسم کی صورت حال۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں مختلف قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔ کبھی آپ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues