بھیڑ یا اتحاد
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹
بھیڑ یا اتحاد
انسانی نفسیات کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ محبت کے مقابلے میں نفرت کا جذبہ زیادہ طاقتور جذبہ ہے۔ اس کے اندر جوڑنے کی طاقت بھی زیادہ ہے۔ انسانیت سے محبت کرنے والے شاذ و نادر ہی باہم جڑتے ہیں مگر نفرت کرنے والے ہمیشہ آپس میں جُڑ جاتے ہیں۔ کسی شخص یا کسی گروہ سے مشترک نفرت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں جو لوگوں کو مؤثر طور پر باہم جوڑتی ہو : Hate is in every way a much stronger passion than love. It is also a much stronger binding force. Lovers of humanity rarely bind themselves together, haters invari- ably do so. Nothing unites a people more effectively than a common hatred for someone or some other community. ہندوستان کی بڑی بڑی تنظیمیں اس قول کی مصداق ہیں، خواہ وہ ہندو تنظیمیں ہوں یا مسلم تنظیمیں۔ یہ تمام تنظیمیں کسی مفروضہ دشمن کے خلاف نفرت کے جذبے پر بنی ہیں۔ اگر ان سب کا ایک مشترک نام دینا ہو تو ان کا صحیح ترین نام ہوگا ــــــــــــ دوسروں سے نفرت کرنے والی تنظیمیں : Organisations of haters of other communities موجودہ زمانہ میں بار بار مسلمانوں کا "بے نظیر اتحاد" وجود میں آیا ہے۔ مگر یہ تمام اتحاد نفرت کی زمین پر قائم ہوا ہے نہ کہ محبت کی زمین پر۔ جدید دور میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ مسلمانوں کا ”ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر" ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گیا۔ مگر ایسا ہر واقعہ کسی مفروضہ دشمن کے خلاف نفرت کے جذبہ کو ابھار کر حاصل کیا گیا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مسلمان غیر اقوام کے لیے محبت و خیر خواہی کی پکار پر بڑی تعداد میں اکٹھا ہو گئے ہوں۔
ہمارا ایک پر جوش لیڈر اٹھتا ہے۔ وہ جذباتی تقریریں کر کے مسلمانوں کو ایک غیر قوم کے خلاف بھڑکا تا ہے۔ اس طرح وہ بہت جلد مسلم عوام کی بھیڑ اپنے گرد جمع کر لیتا ہے۔ اور اس کے بعد فخر کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ "بے نظیر اسلامی اتحاد" ظہور میں آگیا ہے۔ مگر یہ سب سے بڑا دھوکا ہے جس میں موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے انبوہ کا زیادہ صحیح نام بے نظیر بھیڑ ہے نہ کہ بے نظیر اتحاد۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues