Al-Risala · February 1994 · page 24

گلبرگہ کا سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴

گلبرگہ کا سفر

گلبرگہ ریاست کرناٹک میں واقع ہے۔ دہلی سے اس کا فاصلہ ۱۸۲۵ کلومیٹر ہے۔ یہاں ایک ادارہ حزب التوحید کے نام سے قائم ہے۔ کچھ تعلیم یافتہ نوجوان اس کو چلا رہے ہیں۔ اس ادارہ کی دعوت پر گلبرگہ کا سفر ہوا۔ اس سفر کے دوران مزید حیدر آباد اور ظہیر آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔

۴ مئی ۱۹۹۲ کی شام کو جب میں اپنے دفتر سے رخصت ہو رہا تھا، میری زبان سے نکلا: ”میری مثال ایسی ہے جیسے کسی گائے کو سلاٹر ہاؤس لے جایا جا رہا ہو۔ “ یہ تجربہ مجھ کو ہر سفر میں پیش آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا ہر سفر دعوتی سفر ہوتا ہے ۔ دعوت کی ذمہ داری سب سے زیادہ سخت ذمہ داری ہے۔ دعوت کا کام احساس عجز کے تحت ہوتا ہے نہ کہ احساس اعتماد کے ساتھ۔ واقعہ یہ ہے کہ داعی کا کام ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، دنیا میں اللہ رب العالمین کی نمائندگی ہے۔ آدمی مجبور ہے کہ وہ اس مشکل کام کے لیے کھڑا ہو۔ اسی کے ساتھ وہ مجبور ہے کہ اس کی نزاکتوں کو سوچ کر تڑپ اٹھے۔ میرا حال یہ ہے کہ جب میں کسی اجتماع میں تقریر کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو اپنی عجز بیانی کا احساس اتنی شدت کے ساتھ طاری ہوتا ہے کہ اکثر میری زبان سے نکل جاتا ہے: خدایا، تو میرے لیے پہلے بیک اسپیکر بن جا۔

ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تو فضا گرمی کی وجہ سے تپ رہی تھی۔ سارا بدن پسینہ پسینہ ہوگیا۔ اس کے بعد جب میں دہلی ایئرپورٹ کی ایئرکنڈیشنڈ عمارت میں داخل ہوا تو وہاں ہر طرف ٹھنڈ تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد پسینہ خشک ہو کر جسم کو سکون حاصل ہو گیا ۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں اللہ تعالی نے گرمی بھی رکھی ہے اور ٹھنڈ بھی۔ گرمی اس لیے ہے تاکہ اس کو دیکھ کر آدمی جہنم کو یاد کرے ۔ اور ٹھنڈ اس لیے ہے تاکہ آدمی جب اس کا تجربہ کرے تو وہ جنت کا مشتاق بنے۔

دہلی سے حیدر آباد کے لیے فلائٹ نمبر ۸۵۹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایک انگریزی اور ایک ہندی اخبار دیکھا ۔ انگریزی ہفت روزہ کرنٹ (۱۵ مئی ۱۹۹۲) میں ایک مفصل مضمون افغانستان کے بارے میں تھا۔ اس کا عنوان تھا : کشتگان فتح (victims of victory) اس مضمون میں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page