گلبرگہ کا سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵
افغان جہاد کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ افغانستان کے قبائل جو باہم معاند اور متخاصم رہتے ہیں، اسلام ان کو متحد کرنے کے لیے کافی نہیں :
دورِ اول میں اسلام نے یہ معجزہ دکھایا کہ اس نے لڑتے ہوئے لوگوں کو آپس میں متحد کر دیا (آل عمران ۱۰۳) اس کے برعکس آج ایک جائزہ نگار کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ اسلام لڑنے والے لوگوں کو متحد کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دور اول کے لوگوں نے اسلام کو اسلام کے طور پر اختیار کیا تھا۔ موجودہ زمانہ میں لوگ اسلام کو قومی نعرہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اور جو فائدہ حقیقی اسلام سے ملتا ہو وہ فائدہ کبھی قومی نعرہ والے اسلام سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
دورانِ پرواز ہندی اخبار ساندھیہ ٹائمز (ہم اسی ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے اُردو زبان دیوناگری رسم الخط میں لکھی ہوئی ہے۔ اس شمارہ کی چند سرخیاں ملاحظہ ہوں : کانگریس، بھاجپا اور جنتا دل میدان میں دلوں کے خزانے لوٹنے نہیں دیے کالازار میں ہومیوپیتھی کارگر ہے ہر سال ساڑھے تین لاکھ مکان بنانے ہوں گے بے قابو سٹلائٹ قابو میں عمران نے نام واپس کیوں لیا دلی پولیس کمال کرتی ہے حاضر جواب تلک بس کو اسٹاپ پر روکنا شان کے خلاف سمجھتے ہیں جو لوگ ہندی اخبارات پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہندی اخبارات کی زبان عام طور پر اسی قسم کی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ اردو زبان اس ملک میں مٹ رہی ہے۔ زیادہ صحیح
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues