یہو یا پرستار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۹
اسلامی نقطہ نظر سے صرف یہ کافی نہیں کہ جو قدم اٹھایا جا رہا ہے وہ بظاہر صحیح ہے۔ اسی کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ نتیجہ کے اعتبار سے وہ مفید ہے یا مضر۔ ہفت روزہ نئی دنیا (دہلی) کے نمائندہ مسٹر کرمانی اور ان کے ساتھیوں نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع ”اسلامی کورٹ“ کے قیام کے بارے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا حالیہ فیصلہ تھا۔ ان کو بتایا گیا کہ اس فیصلہ کا فائدہ کچھ خود ساختہ لیڈروں کو مل سکتا ہے مگر عام لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ ملنے والا نہیں۔ انگریزی روزنامہ پائینیر کے نمائندہ مسٹر اعجاز نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو صدر اسلامی مرکز کا مفصل انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ مسلمان کے اوپر شریعت نے کیا کیا ذمہ داریاں ڈالی ہیں۔ اور حالات کے فرق سے ان ذمہ داریوں میں کس قسم کی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ یہ انٹرویو پائینیر کے شمارہ ۷ اکتوبر میں شائع ہوا ہے۔ کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی میں ۱۵ - ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۳ کو نیشنل سمپوزیم ہوا۔ اس کا موضوع تھا: انڈین کلچر اینڈ نیشنل ہارمنی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۱۵ اکتوبر کے اجلاس میں شرکت کی اور ”کی نوٹ ایڈریس“ کے طور پر وہاں ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ملک میں ایک جہتی صرف ٹالرنس کے ذریعہ لائی جاسکتی ہے۔ اتحاد ہمیشہ اختلاف کو برداشت کرنے سے آتا ہے نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔
ہندی ہفت روزہ نئی زمین کے نمائندہ مسٹر کرمانی اور مسٹر شار نے ۷ اکتوبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ بابری مسجد کے مسئلہ میں جو فارمولا الرساله کی طرف سے دیا گیا تھا آج ہندو اور مسلمان دونوں عمل طور پر اس کو اختیار کر چکے ہیں۔ دور درشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حضرت بل کے حادثہ کے پس منظر میں مسجد کے اسلامی حکم کے بارہ میں تھا۔ اس انٹرویو کا سوال و جواب انگریزی زبان میں ہوا۔ ۱۹ اکتوبر اور ۲۰ اکتوبر کے پروگرام میں اس کو دور درشن کے نیشنل چینل پر دکھایا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues