Al-Risala · February 1994 · page 48

یہو یا پرستار

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۸

کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر فتاوی کی تاریخ سے تھا۔ اس سلسلہ میں ضروری۔ تفصیلات انھیں بتائی گئیں۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ”قضا “ کا معاملہ فتوے کے معاملہ سے بالکل الگ ہے، ایک شخص کو قابل سزا مجرم قرار دینے کا فتوی کوئی مفتی نہیں جاری کر سکتا۔ اس قسم کے معاملہ کا تعلق عدالت سے ہے۔ عدالت میں ضروری کارروائی کے بعد ہی کوئی قاضی یا جج کسی مجرم کے لئے مقرر سزا کا اعلان کر سکتا ہے۔ خواہ اس کے جرم کا تعلق کسی مذہبی معاملہ سے ہو یا سماجی معاملہ سے۔ یہ انٹرویو پانیر کے شمارہ ۱۰ نومبر ۱۹۹۳ میں شائع ہوا ہے۔

صدر اسلامی مرکز نے ایک پروگرام کے تحت ستمبر ۔ اکتوبر ۱۹۹۳ میں اٹلی اور انگلینڈ کا سفر کیا اس سلسلہ میں کانفرنس میں شرکت خطابات اور ملاقات کا موقع ملا۔ اس کی رو داد سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

ہندی اخبار نو بھارت ٹائمس کے نمائندہ مسٹر اسرار خاں نے ۶ اکتوبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانان ہند سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ انڈیا دوسرے ملکوں سے مختلف نہیں۔ مسلمان جس طرح دوسرے ملکوں میں وہاں کے حالات سے ایڈجسٹ کرکے رہتے ہیں اسی طرح وہ انڈیا کے حالات سے ایڈجسٹ کرکے رہیں تو یہاں بھی ان کو وہی شانتی مل سکتی ہے جو انھیں دوسرے ملکوں میں ملی ہوئی ہے۔

۸ ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ مسٹر فیروز نے ۹ اکتوبر ۱۹۹۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کچھ مفتی صاحبان آجکل جس طرح کسی کے بارے میں قتل اور پھانسی کا فتوی جاری کر رہے ہیں وہ سراسر غیر اسلامی ہے۔ کسی جرم پر سزا کا فیصلہ دینا قاضی کا کام ہے، وہ ہر گز مفتی کا کام نہیں۔ کوئی مفتی اگر کسی کو مجرم بتا کر اس کے لئے سزا کا فتوی جاری کرتا ہے تو وہ خود سب سے بڑا مجرم ہے۔

پی ٹی آئی کے نمائندہ مسٹر اقبال نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر تازہ حالات اور مسلمان سے تھا۔ انھیں بتایا گیا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page