خبر نامه اسلامی مرکز 101
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۹
ہے، اس سلسلہ میں وہ اسلام کی تعلیمات پر بھی ایک مستقل مضمون دے رہے ہیں۔ انٹرویو اسی سلسلہ میں تھا۔
۱۳| ہندی اخبار ہندوستان کے نمائندہ مسٹر سنیل دت اور مسٹر اشوک کنکر نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اردو اور مسلمان سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ آزادی کے بعد اردو کو زوال نہیں ہوا ہے۔ اب وہ کئی دوسری زبانوں کی طرح بیک وقت دو رسم الخط میں لکھی جارہی ہے۔ ایک فارسی رسم الخط میں اور دوسرے دیوناگری رسم الخط میں۔ جیسے کہ گجراتی، ترکی، مالیزی وغیرہ زبانیں بیک وقت دو رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔
۱۴| جن ستا کے نمائندہ مسٹر صفدر رضوی نے ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس کا تعلق رام مندر ٹرسٹ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس معاملہ میں پوری کے شنکراچاریہ کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے کوئی اقدام نہیں کیا جانا چاہئے۔
۱۵| کرزن روڈ (نئی دہلی) پر ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۴ کی شام کو سوامی اوم پورن سوتنترا کی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں تعلیم یافتہ ہندو صاحبان شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ملک میں امن اور ترقی کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ۱۶| جناب رفیق لودیا کے تعاون سے اکتوبر ۱۹۹۴ میں ڈاکٹر ثانی اثنین خاں نے جرمنی اور انگلینڈ کا سفر کیا۔ اس کا مقصد انسائیکلو پیڈیا آف قرآن کے لئے ضروری تاریخی مواد حاصل کرنا تھا۔
۱۷| نیو ہورائزن اسکول (نئی دہلی) میں دعوت کے موضوع پر ایک سیمنار ہوا۔ یہ یونیورسل پیس فاؤنڈیشن نے منظم کیا تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز بھی مدعو تھے۔ انہوں نے اس میں شرکت کی اور ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۴ کو دعوت کے موضوع پر تقریر کی۔ ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول میں صرف انفرادی دعوتی کامیابی ممکن ہے۔ دعوت کے عمومی فتحیاب کے لئے ہمیں یک طرفہ اعراض کے ذریعہ موجودہ کشیدگی کو ختم کرنا ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues