امتیازی صفت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۴
امتیازی صفت
اسلام ایک محفوظ مذہب ہے۔ اس لئے اس کے اندر یہ امتیازی صفت پائی جاتی ہے کہ وہ انسانی عقل اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ عقلی غور وفکر یا علمی ترقی کا کوئی بھی درجہ ایسا نہیں جہاں اسلام میں اور عقل میں ٹکراؤ پیش آجائے اور انسان کے سامنے یہ مسئلہ پیدا ہو جائے کہ اگر وہ مذہب کو لیتا ہے تو اس کو علم اور عقل کے تقاضوں کو پہلے چھوڑنا پڑے گا۔ جارج برنارڈ شا نے اسلام کی اس صفت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب اسلامی اصلاح کی تحریک اٹھی تو اس کے پیروؤں کو یہ زبردست موقع ملا کہ ان کا مذہب دنیا میں واحد قائم شدہ مذہب تھا جس کے عقائد کو کوئی بھی ذہین اور تعلیم یافتہ آدمی تسلیم کر سکتا تھا: When the Mahomedan reformation took place, it left its followers with the enormous advantage of having the only established religion in the world, in whose articles of faith, any intelligent and educated person could believe. اسلام کی اسی خاص صفت کا یہ نتیجہ ہے کہ سائنسی دور سے پہلے کے زمانہ میں بھی لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوتے رہے اور آج سائنسی دور میں بھی ساری دنیا میں لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ جدید تعلیم یافتہ ذہن کے لئے اسلام کو قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔ یہاں وہ اس مشکل سوال سے دوچار نہیں ہوتا کہ اسلام کو لے تو علم و عقل کو چھوڑنا پڑے گا اور علم و عقل کو لے تو اسلام کو چھوڑنا ضروری ہو جائے گا۔ الا یہ کہ مصنوعی طور پر وہ اپنے ذہن کے دو خانے بنالے۔ ایک میں اپنے دین کورکھے اور دوسرے میں اپنے علم کو۔
جارج برنارڈ شا نے جس چیز کو دور اول کے اہل اسلام کے لئے عظیم موقع (enormous advantage) کہا ہے وہ موقع آج کے اہل اسلام کے لئے بھی پوری طرح موجود ہے۔ تا ہم وہ استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی راہ میں واحد رکاوٹ وہ قومی نفرت ہے جو داعی اور مدعو کے درمیان غلط طور پر قائم ہوگئی ہے۔ اس رکاوٹ کو اگر دور کر دیا جائے تو دوبارہ اسلام ایک عظیم سیلاب کی مانند انسانی آبادیوں میں داخل ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues