محنت کی روزی
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۵
محنت کی روزی
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کسب الرجل وعمله بیدہ، کے تحت چند حدیثیں منقول ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث یہ ہے جس کو امام بخاری نے مقدام رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے درج کیا ہے :
ما اكل احد طعاماً قط خيراً من ان يأكل من کسی آدمی نے کبھی اس سے اچھا کھانا نہیں کھایا کہ عمل يده وان نبي الله داؤد عليه السلام كان وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے۔ اور اللہ کے رسول ياكل من عمل يده؛ داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
ہاتھ کی کمائی سے مراد اپنی محنت کی کمائی ہے۔ اور محنت کی کمائی بلا شبہ تمام کمائیوں میں سب سے اچھی کمائی ہے۔ محنت کی کمائی اور بے محنت کی کمائی میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ اس کو انسانی زبان میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بے محنت کمائی کیا ہے۔ مثلاً آپ کے والد آپ کے لئے بہت سی عمارتیں چھوڑ گئے ہیں جن کے کرایہ پر آپ آرام سے رہ رہے ہیں۔ بنک میں آپ کی کوئی بڑی رقم جمع ہے جس کا انٹرسٹ ہی آپ کے ماہانہ خرچ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ آپ کو اتفاق سے کوئی ایسی گدی مل گئی ہے جس میں چندے، ہدیے اور تحفے تحائف آتے رہتے ہیں اور لوگ خود آکر آپ کو نذرانہ پیش کرتے رہتے۔ پٹرولڈ الر کا کوئی دہانہ آپ کو مل گیا ہے اور صرف کچھ خوبصورت الفاظ بول کر آپ بڑی بڑی رقمیں حاصل کر لیتے ہیں۔ اس قسم کی تمام کمائی بے محنت کی کمائی ہے۔ ایسی کمائی آدمی کے بدن کو تو موٹا کرتی ہے مگر اس کی روح کے لئے وہ قاتل ہے۔ ایسی ہر کمائی آدمی کی شخصیت کے ارتقاء کے لئے مستقل رکاوٹ ہے۔ ایسے آدمی میں اور خوبصورت حیوان میں کوئی فرق نہیں۔
محنت کی کمائی وہ ہے جس کے لئے آپ کو خود سوچنا پڑے۔ جس میں نفع کے ساتھ گھاٹے کا بھی اندیشہ ہو۔ جس کا حصول تمام تر آپ کی ذاتی جدوجہد پر منحصر ہو۔
ایک ہے دوسرے کی کمائی پر جینا ۔ دوسرا ہے خود اپنی کمائی پر جینا۔ حدیث میں دوسرے کی کمائی پر جینے کو کمتر ذریعہ بتایا گیا ہے۔ زیادہ بہتر اور اعلیٰ ذریعہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنی محنت کی کمائی پر رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues