Al-Risala · March 1995 · page 7

دو قسم کئے آدمی

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۷

دو قسم کئے آدمی

ایک آدمی وہ ہے جو کم بولے اور زیادہ کرے۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو زیادہ بولے اور کم کرے۔ پہلی قسم کا آدمی ہی آدمی ہے، دوسری قسم کا انسان آدمی کے بھیس میں غیر آدمی ہے۔ ہندوستان میں ایمرجنسی (۱۹۷۵-۷۷) کے زمانہ میں فخر الدین علی احمد صدر جمہوریہ تھے۔ ان کے پاس یوپی کا ایک مسلمان آیا۔ اس نے کہا کہ میرے بھائی کو پولیس نے میسا کے قانون کے تحت گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا ہے، حالاں کہ وہ بالکل بے قصور ہے۔ فخر الدین علی احمد نے بھائی کا نام پتہ لکھ کر مذکورہ مسلمان کو رخصت کر دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ فخر الدین صاحب نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ مگر جب وہ ٹرین سے سفر کر کے اپنے گھر پہنچے تو ان کے بھائی رہا ہو کر گھر واپس آ چکے تھے۔ قصہ یہ تھا کہ مذکورہ مسلمان کو رخصت کرنے کے بعد فخر الدین علی احمد صاحب نے اپنے سکریٹری سے کہا کہ فلاں ضلع کے کلکٹر کو ٹیلیفون کرو اور اس سے کہو کہ اس نام کے ایک صاحب آپ کے یہاں جیل میں ہیں۔ صدر صاحب نے ان کی خیریت پوچھی ہے۔ کلکٹر نے جب یہ سنا تو وہ ڈر گیا ۔ وہ سمجھا کہ جس آدمی کو اس نے جیل میں بند کر رکھا ہے، وہ کوئی اہم شخصیت ہے، اسی لئے تو صدر صاحب اس کی خیریت پوچھ رہے ہیں۔ چنانچہ فورا اُن کو جیل سے رہا کر دیا۔

دہلی کے ایک صاحب مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ انگریزی اخباروں میں میرے تعلقات ہیں۔ میں مسلم نوجوانوں کو انگریزی اخبارات میں جگہ دلا سکتا ہوں۔ مگر مسلمانوں میں شوق ہی نہیں۔ اس کے بعد میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ انھوں نے انگریزی سے ایم اے کیا تھا اور محنتی بھی تھے۔ میں نے ان کو مذکورہ صاحب کے پاس بھیجا۔ انھوں نے نوجوان کو مکتوب الیہ کا نام درج کے بغیر ایک خط لکھ کر دیا جس کا مضمون یہ تھا: "میں ان سے براہ راست واقف نہیں ۔ آپ ان کا ٹسٹ لے لیں اور اپنے ٹسٹ میں جیسا پائیں اس کے مطابق ان سے معاملہ کریں"۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نوجوان نے اس خط کو استعمال نہیں کیا۔

زندگی میں کہنے کی اہمیت ہے نہ کہ بولنے کی۔ کم بولنا اور زیادہ کرنا، آدمی کو باقیمت بناتا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ بولنا اور کم کرنا آدمی کو بے قیمت بنا دیتا ہے۔ بندوں کی نظر میں بھی اور خدا کی نظر میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page