صحیح طریقہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۸
صحیح طریقہ
حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ سلطنت دسویں صدی قبل مسیح ہے۔ انھوں نے یمن کی حکمراں ملکہ سبا کے نام یہ خط بھیجا کہ تم لوگ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور بلا مقابلہ میری اطاعت قبول کر لو۔ ملکہ نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔ انھوں نے عدم اطاعت اور ٹکراؤ کا مشورہ دیا۔ اس پر ملکہ سبا نے کہا: بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو خراب کر دیتے ہیں۔ اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اور یہی یہ لوگ کریں گے (النمل ۲۱- ۳۳) اس کے بعد ملکہ سبا نے حضرت سلیمان کی اطاعت قبول کر لی۔
اس سے معلوم ہوا کہ حکمراں سے ٹکراؤ کا نتیجہ اگر فساد اور تباہی کی صورت میں نکلنے والا ہو تو ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اس سے مصالحت کر لینا چاہئے ۔ جو اقدام الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (counter-productive) ہو اس سے احتراز کرنا عقل کا تقاضا بھی ہے اور اسلام کا تقاضا بھی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی عدم احتیاط کی بنیاد پر بالفعل ٹکراؤ میں مبتلا ہو جائے اور اس کا نقصان اس کے حصہ میں آنے لگے۔ ایسے لوگوں کے لئے قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ وہ تضرع کا طریقہ اختیار کریں (الانعام ۴۳) ، یعنی وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ وہ اللہ سے رہنمائی اور مدد کے طالب بن جائیں۔
یہ ایمان اور عقل کے اعتبار سے دوسرا مطلوب طریقہ ہے۔ یہ غلطی کے بعد ندامت کی روش اختیار کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص اس کا ثبوت دے تو وہ اللہ تعالی کے یہاں اس کے مقبول بندوں میں شمار کیا جائے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ ایسا کریں کہ وہ بھڑک کر اہل اقتدار سے لڑ جائیں اور جب قانون الہی کے مطابق، ہلاکت اور نقصان سے دوچار ہوں تو یہ اعلان کرنا شروع کر دیں کہ ان کے خلاف ظلم ہو رہا ہے۔ ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ وغیرہ۔ ایسے لوگ بلاشبہ اللہ کے راستہ سے بھی بھٹکے ہوئے ہیں اور عقل کے راستہ سے بھی بہت دور ہیں۔ اقدام کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار نتیجہ ہے نہ کہ کوئی خود ساختہ نظریہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues