موت کا شعور
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۲
موت کا شعور
نباتات ، حیوانات اور انسان، تینوں موت سے دوچار ہوتے ہیں۔ ہر درخت آخر کار اپنی سرسبزی کھو دیتا ہے۔ ہر جانور پر ایک وقت آتا ہے جب کہ وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ ایک روز مر جاتا ہے۔ موت اس دنیا کا ایک عالمگیر قانون ہے، جس سے کوئی بھی ذی حیات مستثنی نہیں۔
مگر دوسری ذی حیات اشیاء کے برعکس، یہ صرف انسان ہے جو یہ جانتا ہے کہ کسی بھی لمحہ اس کی زندگی ختم ہو جائے گی۔ اور اگر اس کو زندگی کی پوری متوقع مدت مل جائے تب بھی لازماً اس کا جسم تنزل کا شکار ہوگا اور مقررہ وقت پر وہ مر جائے گا :
Unlike other living creatures, he knows that his life may be cut short at any moment and that, even if he attains the full expectation of a human life, his growth is bound to be followed by eventual decay and, in due time, death. (18/411)
تمام ذی حیات اشیاء میں صرف انسان کے اندر موت کا تصور ہونا بے حد با معنی ہے۔ یہ استثناء بتاتا ہے کہ موت کا معاملہ انسان کے لئے اس سے مختلف ہے جو دوسری ذی حیات اشیاء کے لئے ہے۔ دوسری ذی حیات اشیاء کے لئے موت ایک بے خبری کا واقعہ ہے اور انسان کے لئے مکمل طور پر باخبری کا واقعہ۔
انسانی موت کی یہ استثنائی نوعیت اشارہ کر رہی ہے کہ انسان کے لئے موت کے ساتھ شعور موت بھی درکار ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موت کا وقت آنے سے پہلے موت کے بارہ میں سوچے، اور اس کا سامنا کرنے کے لئے پہلے سے تیاری کرے۔ دوسری ذی حیات اشیاء کے لئے موت سادہ طور پر خاتمہ حیات کے ہم معنی تھی، اس لئے ان کو اس کا شعور دینے کی ضرورت نہ تھی۔ مگر انسان کے لئے موت زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ایک نئے دور حیات کا آغاز ہے۔ اسی لئے ضروری ہوا کہ انسان کو پیشگی طور پر اس مرحلہ حیات سے آگاہ کر دیا جائے تاکہ وہ اس کے لئے ضروری تیاری کر سکے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ شعور کی موت مرے نہ کہ جانوروں کی طرح محض بے شعوری کی موت۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues