غیر فطری عقیدہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۱
غیر فطری عقیدہ
موجودہ مسیحیت کا ایک بنیادی عقیدہ کفارہ (Atonement) ہے ۔ یعنی آدم کے ممنوعہ پھل کھانے کے بعد نہ صرف آدم بلکہ تمام انسان پیدائشی گنہگار ہو گئے۔ نسلِ آدم کو اس پیدائشی گنہگاری سے بچانے کے لئے خدا نے اپنا اکلوتا بیٹا زمین پر بھیجا تاکہ وہ مصلوب ہو کر نسلِ انسانی کے گناہ کا کفارہ بن جائے ۔
یہ عقیدہ عقلی اعتبار سے ناقابلِ فہم ہے اور علمی اعتبار سے بھی وہ بالکل لغو ہے۔ ڈاکٹر ادھا کرشنن نے اس کے علمی پہلو کے بارے میں بجا طور پر لکھا ہے کہ اگر نسلِ انسانی کو پیدائشی گنہگاری سے بچانے کے لئے خدا کی اسکیم یہی تھی کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیج کر مصلوب کرائے۔ تو خدا کو یہ کام بہت پہلے کرنا چاہئے تھا۔
مسیحی عقیدہ کے مطابق، مسیح کی مصلوبیت کے مذکورہ عقیدہ کو ماننے کے بعد ہی آدمی پیدائشی گنہگاری سے نجات پاتا ہے۔ جو اس پر ایمان نہ لائے اس کے لئے جہنم کی آگ ہے۔ ایسی حالت میں خدا نے (نعوذ باللہ ان کروڑوں انسانوں پر بہت بڑا ظلم کیا جن کو اس نے مسیح سے پہلے پیدا کیا۔ مسیح کے بعد پیدا ہونے والے تو مسیح کی مصلوبیت پر ایمان لاکر نجات پا سکتے ہیں۔ مگر جو بے شمار لوگ مسیح سے پہلے پیدا ہوئے ، وہ آخر کس جرم میں جہنم میں جائیں گے ۔ جب کہ ان کے لئے یہ موقع ہی نہ تھا کہ وہ مسیح کو جانیں اور ان پر ایمان لا کر اپنی نجات کی تدبیر کریں۔
یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ اسلام کے خلاف اگر ضد اور عناد کی فضا ختم ہو جائے اور لوگوں کو معتدل ذہن کے ساتھ سوچنے کا موقع دیا جائے تو لوگوں کے لئے اسلام کو قبول کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہے گا۔ داعی کے لئے ایک طرفہ صبر کا حکم اسی لئے دیا گیا ہے۔ داعی یک طرفہ صبر واعراض کے ذریعہ داعی اور مدعو کے درمیان ضد اور عناد کی فضا کو ختم کرتا ہے، تاکہ قبول اسلام کی واحد رکاوٹ دور ہو اور مدعو کے لئے اسلام میں داخلہ کا راستہ آزادانہ طور پر کھل جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues