Al-Risala · March 1995 · page 14

رمضان کا روزہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴

رمضان کا روزہ

رمضان کے روزے کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ روزہ تمہارے اوپر اس لئے فرض کیا گیا ہے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو ( لعلکم تتقون ، البقرۃ ۱۸۳) تقویٰ کا مطلب بچنا ہے۔ ایک خار دار راستہ ہو اور آپ اس سے بچتے ہوئے گزریں تو یہ تقویٰ ہوگا۔ مومن کو دنیا میں اسی طرح بری چیزوں سے بچتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرنا ہے۔ اسی پر ہیزگارانہ روش کا نام تقویٰ ہے، اور رمضان کا مہینہ اسی تقویٰ کی ماہانہ تربیت کا مہینہ ہے۔

روزہ میں کھانا اور پانی چھوڑنا ایک علامتی ترک ہے۔ اصل میں جو چیز ترک کرنا ہے وہ تو خدا کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔ غیر ممنوعات کا وقتی ترک اسی ممنوعات کے مستقل ترک کی مشق ہے۔ کیوں کہ جو آدمی اللہ کے لئے غیر ممنوع کو چھوڑنے پر راضی ہو جائے وہ ممنوع کو بدرجہ اولی چھوڑنے پر راضی ہو جائے گا۔

اس دنیا میں آدمی کا جو امتحان ہے وہ یہی ہے کہ وہ حرام اور حلال میں فرق کرے ، وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا بنے ۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارے۔ اسی ذمہ دارانہ زندگی کی تربیت کے لئے روزہ کا طریقہ اہل ایمان کے اوپر فرض کیا گیا ہے۔ روزہ محض اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ اپنی حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پانی چھوڑ دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے ایسا کیا کہ انھوں نے کھانے پینے کا روزہ رکھا۔ اور اسی کے ساتھ انھوں نے غیبت کا فعل کیا جو اسلام میں حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ انھوں نے اللہ کی جائز کی ہوئی چیز سے روزہ رکھا، اور پھر اللہ کی ناجائز کی ہوئی چیز سے افطار کر لیا۔

متقیانہ زندگی کو دوسرے لفظوں میں محتاط زندگی کہہ سکتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page