رمضان کا روزہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵
احتیاط کے تصور سے خالی ہو۔ وہ بلا قید جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو احتیاط کے طریقہ کو اختیار کئے ہوئے ہو۔ وہ ایک محکم اصول کے تحت کسی روش کو اختیار کرے، اور کسی دوسری روش کو اختیار نہ کرے۔ ییہی معاملہ متقی انسان کا ہے۔ متقی انسان مکمل طور پر ایک محتاط انسان ہوتا ہے۔ وہ اپنے قول وعمل کو خدا کی مرضی کے تابع کر دیتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر تقویٰ اور احتیاط کا ہی مزاج پیدا کرتا ہے۔ رمضان کی ماہانہ تربیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ پورے سال تک اس طرح زندگی گزارے کہ وہ مباحات کے لئے مفطر ہو، اور ممنوعات کے لئے وہ صائم بن جائے۔
روزہ کے دوران آدمی کا صرف کھانا پینا نہیں چھوٹتا۔ اس کو اپنی بہت سی عادتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ وہ اپنی خواہشوں پر روک لگاتا ہے۔ اس طرح وہ اس بات کی تربیت حاصل کرتا ہے کہ وہ کچھ چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ وہ کچھ چیزوں سے بچ کر دنیا میں زندگی گزارے روزہ اس پر ہیز گاری کی انتہائی تربیت ہے۔ روزہ رکھ کر آدمی یہ عہد کرتا ہے کہ ناجائز چیزیں تو در کنار، اگر اللہ کی مرضی ہو تو وہ جائز چیزوں کو بھی اللہ کی خاطر چھوڑ دینے کے لئے تیار ہے۔ رمضان کا مہینہ قمری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ اس مہینہ کو اسلام میں روزہ کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ رمضان کے مہینے کا روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ اور اس کی بہت فضیلت بتائی گئی ہے۔
امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے ہر نیک عمل کا اجر دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک دیا جاتا ہے۔ مگر روزہ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا انعام دوں گا۔ بندہ میرے لئے اپنی خواہش کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی افطار کے وقت، اور دوسری خوشی اس وقت جب کہ وہ اپنے رب سے ملے گا۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کسی شخص کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ گالی دے اور نہ شور کرے ۔ اور اگر کوئی آدمی اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ کہہ دے: میں تو روزہ دار ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues