Al-Risala · March 1995 · page 24

حکمت دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴

تھے ۔ ان کو دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال تک تاریخ کا سفر گھوڑوں ہی پر ہوا ہے ۔ گھوڑوں نے تاریخ انسانی کو ابتدائی حرکت دی ہے ۔ میں گھوڑے کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ مشینی سواریوں کے ظہور میں آنے سے پہلے خدا نے زندہ سواری کے لئے انسان کو گھوڑ ادے دیا ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم احسان ہے ۔ اس کے بغیر انسانی تاریخ کا سفر ہی شاید رک جاتا ۔

آج ایک واقعہ گزرا ۔ اس کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ غماً بغم لکیلا تأسو اعلیٰ ما فاتکم ولا تفرحوا بما آتاکم کا مطلب یہ ہے کہ غم پر غم ڈال کر آز مائش کی گئی کہ کیا تمہارے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے کہ فوت ہونے پر تمہارے اندر یاس نہ پیدا ہو اور یافت پر تمہارے اندر فرحت نہ پیدا ہو ۔

۱۶ فروری کو یہاں کے ریڈیو کے نمائندہ عبدالرحیم برقیہ آئے اور اسلام تھیوری کے مباحث پر انٹرویو لیا ۔ ان کے چار خاص سوال تھے ۔

۱ ۔ نیچرل لاء کی بنیاد پر جدید ملحدین کا جو استدلال ہے اس کو آپ کیوں بے بنیاد سمجھتے ہیں کیا یہ ملحدانہ استدلال اب بھی کوئی علمی اہمیت رکھتا ہے ۔

۲ ۔ لاشعور کے نظریہ کے تحت کہا جاتا ہے کہ دینی عقائد محض ذہنی اختلال کا نتیجہ ہیں ، اس دعویٰ کا علمی رد آپ کے نزدیک کیا ہے ۔

۳ ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ آفات جن کے مقابلہ میں انسان بے بس ہے ، ان کو دیکھ کر انسان کے اندر جو خوف کی نفسیات پیدا ہوئی ، اس نے خدا کا عقیدہ پیدا کیا ۔ ۴ ۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس بحث میں سب سے اہم مسئلہ طریق استدلال کا مسئلہ ہے۔ آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ استدلال کا طریقہ اب پوری طرح دین کے حق میں ہے ۔ ان سوالات کے جوابات میں نے اپنی ہندوستانی عربی میں دئے ۔ تاہم اس کو انھوں نے سمجھا اور خوش ہوئے۔ ۔ اگر ممکن ہوا تو انشاء اللہ ان جوابات کو مزید مفصل کر کے الرسالہ میں سوال و جواب کی صورت میں چھاپ دیا جائے گا ۔

۱۶ فروری کو الدروس الحسنیہ کا آغاز ہوا ۔ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے شرکاء اجتماعی طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page