Al-Risala · March 1995 · page 23

حکمت دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۲۳

لو بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔

میرے سائق السید محمد البد وائی، تعلیم یافتہ اور نہایت مہذب ہیں۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ میں ہر وقت یہاں آپ کے لئے سیارہ لے کر موجود رہتا ہوں۔ مگر آپ اس کو استعمال نہیں کرتے۔ آج ان کے اصرار پر ہوٹل سے نکلا اور شہر رباط دیکھنے کے لئے گیا۔ شہر نہایت خوبصورت نظر آیا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ بے شمار گاڑیوں کے باوجود پولیوشن بہت کم تھا۔

انھوں نے مختلف چیزیں دکھائیں۔ مثلاً تفصیلی صنعت کے مراکز، وزارتی دفاتر، القصر الملكی وغیرہ۔ ہر جگہ بورڈ عربی اور فرنچ میں مشترک طور پر نظر آیا۔ پورے شہر میں صرف ایک فقیر دکھائی دیا۔ سمندر کے ساحل سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر روشنی کا مینار (light house) بنا ہوا تھا۔ اس کو دیکھ کر قدیم دور کی جہاز رانی کا منظر سامنے آگیا۔

یہاں کے قدیم متحف کو دیکھا۔ اس میں قدیم بادشاہوں نیز عام انسانوں کے آثار تھے۔ ایک جگہ شیشہ کے کیس کے اندر ایک قدیم انسان کا ڈھانچہ رکھا ہوا تھا جو کسی مقام پر ملا ہے۔ وہ ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں کی صورت میں تھا۔ میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ ایک روز آئے گا جبکہ میرا جسم بھی اسی طرح ہڈیوں کا ایک وحشت خیز ڈھانچہ بن چکا ہوگا۔ پھر وہ مجھ کو ضریح محمد حسن ثانی' دکھانے کے لئے لے گئے۔ یہاں غیر معمولی اہتمام کیا گیا تھا۔ خاص قبر مکمل طور پر سفید سنگ مرمر کی ہے۔ دیواروں پر سونے کے کام ہیں۔ چاروں طرف غیر معمولی اہتمام ہے۔

تاج محل کو دیکھ کر کسی یورپین خاتون نے کہا تھا کہ اگر میری قبر پر اس قسم کا تاج محل بنایا جائے تو میں ابھی مرنے کے لئے تیار ہوں۔ اسی طرح بادشاہوں کے عظیم الشان مقبروں کو دیکھ کر بہت سے لوگ حرص کرتے ہیں کہ کاش ہمارا بھی ایسا ہی شاندار مقبرہ ہوتا۔ مگر میرا حال یہ ہے کہ میں مٹی کی قبر اور سنگ مرمر کے تاج محل میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔ اصل اہمیت مرنے کے بعد والے اخروی انجام کی ہے نہ کہ مرنے کے بعد دنیا میں بننے والے ڈھانچہ کی۔ ہوٹل یہاں کے اہم ترین علاقہ میں واقع ہے۔ اس کے چاروں طرف بہت بڑے بڑے پارک ہیں۔ میں ایک پارک میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے اندر سے ایک سڑک گزرتی ہے۔ چنانچہ گھوڑوں کا ایک دستہ گزرا۔ تمام گھوڑے نہایت تندرست تھے۔ اور نہایت شان کے ساتھ چل رہے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page