حکمت دین
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۲۶
یہاں معلوم ہوا کہ ایک عرب نوجوان روس (ماسکو) میں فضائی دفاع کے موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ وہ الرسالہ مشن سے کافی متاثر ہیں۔ انھوں نے طے کیا ہے کہ اس مشن کی تمام انگریزی کتابوں کو روسی زبان میں چھپوائیں۔ ان کی کوشش سے ایک تعلیم یافتہ روسی نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس روسی نو مسلم کی مدد سے وہ اسلامی مرکز کی کتابوں کا روسی زبان میں ترجمہ کروا رہے ہیں۔ اب تک انھوں نے سترہ کتابوں کا روسی ترجمہ تیار کر لیا ہے۔
بنگلہ دیش کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو عرب میں رہتے ہیں۔ وہ " انسان اپنے آپ کو پہچان" کا ترجمہ بنگالی زبان میں کر کے چھپوا رہے ہیں۔ یہ کام انھوں نے بنگلہ دیش کے ایک اور مسلمان کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ ایک صاحب نے ترجمہ کیا ہے، دوسرے نے طباعت کے سلسلہ میں مالیاتی مدد کی ہے۔
ایک صاحب نے ایک عربی مثل بتائی : اذا اردت ان تعج کل و وکل ۔ اس مثل میں وکل کا لفظ فصیح عربی نہیں ہے بلکہ دارجہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو خود کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ یعنی لا تأكل وحدك افرو ری کو درس کا موضوع تھا : مهمات من قواعد الاسلام ۔ آج الاستاذ محمد الحبیب بلخوجہ نے درس دیا۔ انھوں نے اپنے درس کی بنیاد اس حدیث پر رکھی : الطهور شطر الايمان والحمد لله تملأ الميزان وسبحان الله والحمد لله تملأ ما بين السماوات و الارض و الصلاة نور و الصدقة برهان و الصبر ضياء والقرآن حجة لك او عليك كل الناس يغدو فبائع نفسه فمعتقها او موبقها یہ حدیث جس کو امام مسلم نے کتاب الطہارت ر باب فضل الوضوء) میں نقل کیا ہے ، اس میں صبر کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ اہل ایمان کے لئے روشنی ہے۔ گویا کہ صبر ایک انتہائی اعلی درجہ کا مثبت رویہ ہے جو آنکھ کھولنے والا اور راستہ کو صاف کرنے والا ہے۔ ایسی حالت میں یہ بات کتنی زیادہ غلط ہوگی کہ صبر کو ایک سلبی رویہ یا مجبورانہ خاموشی کے ہم معنی سمجھ لیا جائے۔ آج درس سے پہلے وزارة الاوقاف کے ہال میں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے علماء جمع ہوئے۔ اور کل کے درس پر مناقشہ ہوا۔ سب سے پہلے کل کی تقریر اور مجلس کا پورا ٹائپ وہی سی آر پر دکھایا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues