حکمت دین
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۲۷
گیا تاکہ اصل بحث لوگوں کے ذہن میں تازہ ہو جائے۔ جو واقعہ میں نے کل دیکھا اور سنا تھا، آج ٹھیک اسی طرح اس کوشینی سطح پر دہرایا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھے قرآن کی آیت وهو يبدئ ويعيد۔ یاد آئی۔ ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ عملی مشاہدہ بن کر آنکھوں کے سامنے آگئی ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ نسخ کی چار قسمیں ہیں: نسخ التلاوة والحكم، نسخ التلاوة و بقاء الحكم ، نسخ الحكم وبقاء التلاوة، نسخ الكتاب بالسنة ونسخ السنة بالكتاب۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن میں تقریباً ۴۰ نسخ ثابت ہوتے ہیں مگر افسوس ہے کہ علماء نے اس میں وسعت دی اور اس کی تعداد کو پانچ سو تک پہنچا دیا۔ (ان العلماء مع الاسف الشديد، توسعو ا فی الناسخ والمنسوخ) کسی نے کہا نسخ صرف فرع میں ہے، اصل میں نہیں۔ اسی لئے نسخ کی آیتیں مدینہ میں اتریں ، مکہ میں نسخ کی آیتیں نہیں اتریں۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن اترنے کے بعد اور رسول اللہ کی وفات کے بعد اب کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی حکم کو ناسخ یا منسوخ قرار دے۔ وغیرہ میں نے کہا کہ نسخ کے معاملہ کو محض کچھ آیتوں یا حدیثوں کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ نسخ ایک اصول (مبدأ) ہے نہ کہ محض کچھ آیتوں کی تفسیر کا مسئلہ۔ اگر آپ نسخ کو صرف کچھ آیتوں سے جوڑ دیں تو وہ انھیں آیتوں تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ مگر اس کو اصولِ شریعت ماننے کی صورت میں وہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ یہ دراصل عملی حالات کی رعایت کا مسئلہ ہے اور اس اعتبار سے وہ ایک حکیمانہ اصول کے طور پر ہمیشہ باقی رہے گا۔ مذکورہ آیتوں کی حیثیت اس معاملہ میں علامتی نمونہ کی ہے۔ یہ آیتیں برائے توضیح ہیں نہ کہ برائے تعیین۔ اس سفر میں حسب معمول میں اپنے ساتھ کوئی کتاب یا الرسالہ کا کوئی شمارہ نہیں لے گیا تھا۔ رباط پہنچا اور وہاں آنے والے علماء سے ملاقاتیں ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اکثر لوگ الاسلام تجدیدی کا کا مطالعہ کئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اکثر لوگوں نے مزید عربی کتابوں کا مطالبہ کیا۔ اتفاق سے ایک نوجوان سید صالح الشوکات، قاہرہ سے آگئے تھے۔ وہ میری آمد کی خبر سن کر مجھ سے ملنے کے لئے آئے تھے کیوں کہ یہاں کے نظام کے مطابق الدروس الحسنیہ کا پروگرام ہر روز ساتھ ساتھ نشر کیا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues