Al-Risala · March 1995 · page 29

حکمت دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۲۹

اس کی خوبصورتی میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔

نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ صف کے آگے مسلسل جوتوں کی قطار نظر آئی۔ لوگ زور زور سے قرآن پڑھ رہے تھے اس لئے مسجد کے اندر آواز کافی گونج رہی تھی۔ نمازیوں کو قرآن برائے تلاوت تقسیم کیا جا رہا تھا۔ مجھ کو بھی ایک مجلد قرآن دیا گیا۔ اس کو کھولا تو اندازہ ہوا کہ اس کے انداز تحریر کی وجہ سے اس کو پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ آخر میں دیکھا تو ” وفقا للخط العثمانی“ لکھا ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ یہاں کے لوگ اس کے عادی ہوں مگر عام مسلمانوں کے لئے اس کے ذریعہ تلاوت کرنا آسان نہیں۔

مغربی لہجہ میں لاؤڈ اسپیکر پر قرآن پڑھا جا رہا تھا۔ یہ بھی ہم لوگوں کے لہجے سے بہت مختلف تھا اس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ لہجوں کا فرق کیوں واقع ہوتا ہے۔ قرآن ابتداءً قریش کے لہجہ پر اترا۔ اس کے بعد وہ پھیلا یہاں تک کہ دور دور کے علاقوں میں پہنچ گیا۔ یہ لوگ اپنے اپنے لہجہ میں اپنی زبان بولتے تھے۔ اب انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب قرآن پڑھا تو اس کو انھوں نے اپنے لہجہ میں پڑھا۔ ہر ایک اپنے مقامی لہجہ میں قرآن کے عربی الفاظ دہرانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مسلم قوموں کا مکتوب قرآن اگر چہ ایک ہے۔ مگر اس کو پڑھنے کے لئے ہر ایک کا لہجہ الگ الگ ہو گیا ہے۔ مسجد الحسن الثانی (الدار البیضاء) کے تعارف کے لئے جو تصویر کتاب چھاپی گئی ہے، اس کے آغاز میں یہ آیت درج ہے: وكان عرشه علی الماء ہود ۷)، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عظیم مسجد پانی کے اوپر بنائی گئی ہے۔ یعنی سمندر (اٹلانٹک) کے ساحل پر ہے اور پانی کو پاٹ کر اور اس کے اوپر ستون قائم کر کے اس کو تعمیر کیا گیا ہے۔ الملک الحسن الثانی، جن کو صوفی بادشاہ کہا جاتا ہے انھوں نے ۸ جولائی ۱۹۸۸ کو مسجد کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے اس کی مصلحت ان الفاظ میں بیان کی تھی: اردت أن ابنى هذا المسجد علی الماء، وكان عرشه علی الماء، كما اردت ان يكون المصلى فيه والداعي والذاكر والشاكر والراكع والساجد محمولا علی الارض ولكن اينما نظر يجد سماء ربه وبحر ربه۔

۸ فروری کو افطار کا انتظام ایک وزیر کی رہائش گاہ پر تھا۔ جس ہوٹل میں ہم لوگوں کا قیام ہے وہ ایک امریکی ہوٹل ہے۔ وہاں کھانے کا انتظام زیادہ تر مغربی انداز کا ہے۔ وزیر صاحب کا معاملہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page