Al-Risala · March 1995 · page 31

حکمت دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۱

حالیا بعشرۃ آلاف ين ياباني فقط شهریا۔

19 فروری کو الاستاذ ذلطہ الول (لبنان) کا درس تھا۔ موضوع تھا: المسجد ودورة في حضارة الاسلام وتراث المسلمین۔ انھوں نے اپنے درس کے لئے اس آیت کو بنیاد بنایا؛ انما یعمر مساجد الله من آمن بالله والیوم الآخر واقام الصلاة وآتى الزکوة ولم يخش الا الله فعسى اولئك ان يكونو من المهتدين (التوبة )

مسجد کے بارہ میں انھوں نے مختلف تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ گستاولی بان نے لکھا ہے کہ مسجد مسلمانوں کے لئے مرکز حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بات یقیناً درست ہے۔ مگر اکثر لوگ مرکز حیات کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد کے اندر ہر قسم کی سرگرمیاں جاری ہوں۔ حتی کہ مسجد کے اندر قید خا بھی موجود نہ ہو۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام ظاہری نوعیت کی چیزیں ہیں۔ مسجد اصلاح خشیت الہی کی تربیت کا مرکز ہے۔ مسجد سے لوگوں کو سب سے زیادہ جو چیز ملنی چاہئے وہ یہی خشیت اور تقویٰ کی غذا ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی نہایت سلجھے ہوئے ذہن کے آدمی ہیں۔ انھوں نے مغربی دنیا اور مسلم دنیا کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے لوگوں کی طاقت یہ ہے کہ وہ تنقید کو برداشت کرتے ہیں۔ ان کو ان کی غلطی بتائی جائے تو وہ اس کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ تنقید کو سننے کے لئے تیار نہیں۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے (هم يعترفون بخطاياهم ونحن لا نعترف بخطايا نا)، یہی وجہ ہے کہ ہر قسم کے امکانات کے باوجود مسلم دنیا خائب و خاسر بنی ہوئی ہے۔

رباط سے ایک عربی اخبار العلم (جاری شده 1946) نکلتا ہے۔ یہ حزب الاستقلال کا ترجمان ہے۔ اس کا شمارہ 19 فروری 1994 دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ چھپی ہوئی تھی جس کا عنوان تھا ـــــــــ مصر : حرب بين السلطة والاسلامیین۔ یعنی مصر میں ارباب اقتدار اور اسلام پسندوں کے درمیان جنگ۔ ایک اور خبر میں بتایا گیا تھا کہ حکومت الجزائر نے پاکستان اور ایران پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ الجزائر کے اسلام پسندوں کو مسلح کر رہے ہیں (الجزائر: اتهام باكستان و ايران بتسليح الاسلاميين )

میں سمجھتا ہوں کہ جو مسلمان نفاذِ اسلام کے نام پر حکمرانوں سے مسلح جنگ چھیڑے ہوئے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page