Al-Risala · March 1995 · page 32

حکمت دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۲

وہ دور جدید کا سب سے بڑا جرم کر رہے ہیں۔ یہی وہ نادانی ہے جس نے موجودہ زمانہ میں اسلام کی دعوت کا راستہ روک رکھا ہے۔ یہ برائی جس دن ختم ہوگی اسی دن اسلام کی اشاعت کے دروازے کھل جائیں گے۔

۲۰ فروری کو ایک نوجوان ملاقات کے لئے آئے۔ ان کا نام الهیله لی مصدق ہے۔ الحیله لی ان کا خاندانی نام ہے جو عام رواج کے خلاف شروع میں لکھا جاتا ہے۔ یہ نوجوان جدیدہ الھائے (رباط) کے نمائندہ تھے۔ انھوں نے الرائے کے لئے انٹرویو لیا۔ سوالات زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے دینی اور سیاسی مسائل سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک سوال یہ تھا کہ : ماھی نصيحتكم الى الشباب المسلم (مسلم نوجوانوں کے لئے آپ کی نصیحت کیا ہے)۔ میں نے کہا کہ میری نصیحت صرف ایک ہے۔ وہ سیاست سے دور رہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔

الحیله لی مصدق نے الاسلام یتحدی اور بعض دوسری عربی کتابیں پڑھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مغرب (مراکو) میں خاص طور پر الاسلام یتحدی بہت پھیلی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رباط میں ہم مسلم نوجوانوں کو اکٹھا کریں گے، آپ وہاں چل کر انھیں خطاب کریں۔ مگر بعض وجوہ سے میں اس کے لئے وقت نہ نکال سکا۔

مجھے یہ دیکھ کر تعجب تھا کہ مراکو کے بیشتر تعلیم یافتہ حضرات الاسلام یتحدی سے واقف ہیں اور اس کو پڑھے ہوئے ہیں۔ اس کا راز استاذ محمد مقرر وزارت الاوقاف کے ذریعہ معلوم ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ الاسلام یتحدی مراکو کے ثانوی مرحلہ کے نصاب میں عرصہ سے داخل ہے۔ اس بنا پر وہ بہت بڑی تعداد میں یہاں بار بار منگوائی گئی اور کثرت سے پھیلی۔ رباط کے ایک نوجوان الحبشی علال نے کہا: حتی لا يكاد یخلو منه بيت . اس طرح کے احساسات بہت سے لوگوں نے بیان کئے ۔ ڈاکٹر محمد فتحی عثمان نے کہا کہ امریکہ میں لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے اور مسیحیت محبت کا مذہب (ان دين الاسلام دين تشدد ودين المسيحية دين حب)

انھوں نے اس غلطی کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ برداشت سے کام لیں اور جذبات میں آکر ایسی کارروائی نہ کریں جس سے خدا کے دین کی تصویر اغیار کی نظر میں بگڑ جائے۔ انھوں نے ایک تقریر میں واضح طور پر کہا کہ آجکل کے اسلام پسند

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page