Al-Risala · March 1995 · page 43

اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۴۳

کئی مسلم لیڈروں نے تقسیم ہند کی تحریک چلائی۔ اس کے جواب میں اکھنڈ بھارت کی تحریک چلی۔ ان تحریکوں کے نتیجہ میں جو گرمی پیدا ہوئی اس نے ہندوستان کو جھلس کر رکھ دیا۔ ٹھیک یہی بوسنیا میں بھی پیش آیا۔ راستہ میں ایئر انڈیا کا فلائٹ میگزین (جنوری۔ فروری ۱۹۹۴) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۱۰ پر یہ جاذب سرخی تھی ـــــــــ سمائی ٹیلی فون (sky phone) اس سرخی کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ دنیا آپ کی انگلی کے تحت (The world at your tip) اس میں بتایا گیا تھا کہ ایئر انڈیا کے بوئنگ جہاز میں سفر کرتے ہوئے آپ سمائی ٹیلی فون کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی مقام پر ٹیلی فون کر سکتے ہیں: On the Boeing 747-400, you can call anywhere around the globe, using skyphone. ان سطروں کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مشینی واقعات گویا قدرت الہی کا تعارف ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ساری کائنات خدا کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ ہر جگہ جو چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے اپنے حکم کی تنفیذ کر رہا ہے۔ یہ عظیم واقعہ کیوں کر انجام پاتا ہے، موجودہ مشینی ترقیاں اسی کا ابتدائی سطح پر امکانی تعارف ہیں۔

اگر آپ نقشہ پر دیکھیں تو کیسا بلانکا سے دہلی آنے کے لئے سیدھا راستہ اس طرح ہے ـــــــــ کیسا بلانکا ، طرابلس ، اسکندریہ ، کویت ، بندر عباس ، دہلی۔ مگر میں کیسا لنکا سے پیرس جا رہا ہوں۔ یہ گویا الٹی طرف سفر ہے۔ پھر پیرس سے میں دہلی کے لئے فلائٹ لوں گا۔ یہ مسلم دنیا کے بچھڑے پن کی قیمت ہے۔ کیوں کہ مناسب پرواز مجھے پیرس ہی سے مل سکتی ہے۔ کیسا بلانکا (الدار البیضاء) سے پیرس جاتے ہوئے ہمارا جہاز اسپین کے اوپر سے گزرا۔ اسپین کے تصور سے ماضی کی تاریخ کی بہت سی باتیں تازہ ہو گئیں۔ اسپین میں مسلمانوں کا دور ایک بے حد پر از واقعات دور تھا۔ شاید کسی بھی دوسرے مقام سے اتنے زیادہ اسلامی واقعات وابستہ نہیں ہیں جتنا کہ اسپین سے وابستہ ہیں۔ اسپین میں تقریباً ہر قسم کے واقعات موجود ہیں۔ وہ بذات خود ایک مکمل تاریخ ہے۔ تاہم اس وقت میں مسلم اسپین کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا۔ کیوں کہ جلد ہی ان شاء اللہ اسپین کے لیے میرا ایک سفر ہوگا۔ اس وقت سفر نامہ اسپین کے تحت ان شاء اللہ اس کا تذکرہ کیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page