Al-Risala · March 1995 · page 42

اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۴۲

۲۵ فروری کی صبح کور باط سے واپسی تھی۔ فجر کی نماز پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو یہ الفاظ زبان پر آگئے : خدایا آپ ہی مجھ کو خیریت کے ساتھ دہلی سے مراکو لے آئے۔ اب آپ ہی مجھ کو خیریت کے ساتھ دوبارہ دہلی پہنچائیں گے۔ آپ ہی نے مجھ کو پیدا کر کے دنیا میں رکھا، آپ ہی مجھ کو آخرت میں خیریت کے ساتھ داخل کریں گے۔

روانہ ہوا تو خیال آیا کہ سفر میں روزہ رہ کیوں تاکہ ناغہ نہ ہو۔ پھر یہ حدیث یاد آئی کہ لیس من البر الصيام في السفر۔ چنانچہ میں نے ۲۵ فروری کو روزہ نہیں رکھا۔ البتہ ۲۶ فروری کی صبح آئی تو روزہ کی نیت کرلی۔

۲۵ فروری کی صبح کو واپسی تھی۔ ہوٹل سے ایئر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ ڈاکٹر نا براہیم الرفاعی کا ساتھ رہا۔ وہ بیک وقت علمی اور صوفیانہ مزاج کے آدمی ہیں۔ اتفاق سے یہی میرا مزاج بھی ہے۔ چنانچہ راستہ میں اسی قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ ایئر پورٹ پہنچے تو میرے ساتھ حسب معمول صرف ایک بیگ تھا۔ اس کو دیکھ کر انہوں نے کہا : فاز المخفقون۔

الدار البضاء (کیسابلانکا) سے پیرس کے لئے ایرماک، فلائٹ ۳۸۰ کے ذریعہ روانگی ہوئی راستہ میں مختلف چیزیں پڑھیں۔ نیوز ویک (۲۸ فروری ۱۹۹۴) کی کور اسٹوری کا عنوان تھا : A child's diary of war. ایک تیرہ سالہ لڑکی (Zlata Filipovic) بوسنیا کے شہر سراجیو (Sarajevo) میں رہتی تھی، اب وہ پیرس میں ہے۔ اس نے سراجیو میں ڈائری لکھنا شروع کیا۔ اس کی یہ ڈائری حال ہی میں امریکہ سے چھپی ہے۔ اس میں اس نے اپنے احساسات درج کئے ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں۔ اس کا ایک تاثر انگریزی میں اس طرح نقل کیا گیا تھا کہ سرب، کرواٹ اور مسلمان سب ایک قوم کے لوگ ہیں۔ سیاست کیوں ہم کو الگ کر رہی ہے۔ یہ سیاست بڑی عمر کے لوگ چلا رہے ہیں۔ ہم نو جوان اس کو زیادہ بہتر طور پر چلا سکتے ہیں :

Serbs, Croats and Muslims—they are all people. Why is politics separating us. Politics are conducted by grown-ups. We young would do it better. (12) اس ڈائری کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ بوسنیا میں اسی قسم کی سیاست چلائی گئی جو برصغیر ہند میں چلائی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page