Al-Risala · March 1995 · page 46

اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۴۶

استاد ہیں۔ تعارف کے بعد وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس الاسلام تجدی کے دو نسخے ہیں۔ میں نے اس کو بار بار پڑھا ہے اور اپنی تقریروں میں اس سے بہت کام لیتا ہوں۔ فرانسیسی پولیس نے میری ایک ایک چیز کی نہایت مکمل جانچ کی۔ اور دیر تک مجھے ائیر پورٹ پر روکے رکھا۔ مذکورہ مراکشی عالم سے میں نے پوچھا کہ آخر یہ لوگ اتنی سخت جانچ کیوں کر رہے ہیں۔ پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ خود اپنے کچھ لوگوں کی نادانی کے نتیجہ میں ایسا پیش آیا ہے۔ کچھ مسلمان ان کے ملکوں میں تخریبی کارروائی کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو وہ مشتبہ سمجھ لیتے ہیں۔ ہم اسی کی قیمت ادا کر رہے ہیں (نحن نؤدی الثمن)

پیرس سے دہلی کے راستہ میں مختلف پرچے دیکھے۔ الشرق الاوسط (۲۵ فروری) میں صفحہ پر ایک مضمون کا عنوان تھا : الاخرون تعلموا من مصائبنا، فمتى نتعلم دو سروں نے ہماری مصیبتوں سے سبق لیا، پھر ہم کب سبق لیں گے، اسی طرح ادارتی نوٹ کا عنوان ان لفظوں میں تھا: الحرب الباردة وهبا تھاما الساخنة (سرد جنگ اور اس کے گرم جھونکے) اس کو پڑھ کر خیال آیا کہ آجکل ہر مسلم اخبار ، خواہ وہ کسی زبان میں ہو، اسی قسم کی شکایتی باتوں کا مجموعہ ہو۔ ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلم صحافت فریاد اور احتجاج کی صحافت بن کر رہ گئی ہے۔ یہ پیرس سے دہلی تک کی نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ تقریبا آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد ۲۶ فروری ۱۹۹۴ کی صبح کو جہاز دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ جہاز سے باہر آیا تو کسٹم کے ہال میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اپنے بھاری سامانوس کے ساتھ مختلف کھڑکیوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ میرے ساتھ دستی بیگ کے سوا کوئی سامان نہ تھا۔ چنانچہ میں کسی حساب کتاب کے بغیر چلتا ہوا ائیر پورٹ کے باہر آگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page