دنیا، آخرت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۸
دنیا، آخرت
اس دنیا میں آدمی کبھی کھوتا ہے اور کبھی پاتا ہے۔ کبھی اس کو زخم لگتا ہے اور کبھی اس کو راحت ملتی ہے۔ کبھی وہ خوشی کا تجربہ کرتا ہے اور کبھی غم کا تجربہ۔ کبھی اس کی خواہش پوری ہوتی ہے اور کبھی اس کی خواہش پوری نہیں ہوتی۔ مگر یہ سب کے سب اضافی ہیں۔ دیکھنے کی اصل بات یہ ہے کہ دنیا کا واقعہ صرف دنیا کا ایک واقعہ تھا یا دنیا کے اس واقعہ میں آدمی کو آخرت کی کوئی خوراک حاصل ہوئی۔ کامیابی حقیقتہ یہ نہیں ہے کہ آپ نے دنیوی اہمیت کی کوئی چیز پالی۔ اسی طرح ناکامی یہ نہیں ہے کہ آپ نے دنیوی اہمیت کی کوئی چیز کھودی۔ کامیابی اور ناکامی دونوں کا معیار آخرت ہے۔ کامیابی بھی آخرت کی کامیابی ہے اور ناکامی بھی آخرت کی ناکامی۔
آپ کے سامنے حق آیا۔ اس کا اعتراف رکھنے میں آپ کا مرتبہ نیچا ہو رہا تھا اور اس کا انکار کرنے میں آپ کا مرتبہ بلند ہو رہا تھا۔ اب اگر آپ اس کو رد کرنے کے لئے ایک شاندار لفظ پالیں اور اس طرح اپنے مرتبہ کو اونچا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ آپ کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ عین ناکامی ہوگی کیونکہ آپ نے وقتی طور پر کچھ انسانوں کی نظروں میں اپنے کو اونچا اٹھایا، مگر آپ نے خدا کی نظر میں ہمیشہ کے لئے اپنے کو نیچا کر لیا۔ اس کے برعکس اگر آپ نے اپنے مرتبہ کا لحاظ کئے بغیر سیدھی طرح حق کا اعتراف کر لیا اور اس کے نتیجہ میں آپ کا درجہ عوام کی نظر میں نیچا ہو گیا تو بظاہر اگرچہ آپ نا کام رہے، مگر یہ آپ کے لئے عین کامیابی تھی کیونکہ وقتی پستی گوارا کر کے آپ نے آخرت کی ابدی بلندی کا درجہ حاصل کر لیا۔
یہی معاملہ تمام دنیوی تجربات کا ہے۔ ہر تجربہ ، خواہ وہ منفی تجربہ ہو یا مثبت تجربہ، اس کی قدر و قیمت مقرر کرنے کا اصلی معیار آخرت ہے۔ دنیا کی تلخی اگر آدمی کے ربانی احساس کو جگائے، اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل پڑیں کہ خدایا، میں اس چھوٹی مصیبت پر صبر کرتا ہوں تاکہ تو آئندہ آنے والی بڑی مصیبت سے بچا لے تو اس نے اپنے دنیوی نقصان کو اخروی فائدہ میں تبدیل کر لیا۔ اس کے برعکس اگر آدمی کو سکھ ملے اور وہ اس میں مگن ہو کر خدا کو بھول جائے تو اس کا سکھ اس کے لئے سب سے بڑا دکھ تھا کیوں کہ اس نے اس کو آخرت کی فکر سے غافل کر دیا۔
دنیا سے دنیا کو لینے کا نام ناکامی ہے اور دنیا سے آخرت کو لینے کا نام کامیابی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues