تقویٰ کے مرکز
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۷
تقویٰ کے مرکز
بدر الدین محمد بن بہادر الزرکشی ۷۹۴ھ) قاہرہ میں پیدا ہوئے اور وہیں وفات پائی۔ انھوں نے اپنی کتاب إعلام المساجد میں مسجد سے متعلق بہت سی روایتیں نقل کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے :
قال أبو الدرداء لابنه۔ یا بنی ، لیکن ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے المسجد بيتك۔ فانى سمعت رسول الله میرے بیٹے مسجد کو اپنا گھر بناؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يقول: المساجد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مسجدیں بيوت المتقين۔ فمن يكن المسجد بيته متقیوں کا گھر ہیں۔ پس مسجد جس کے لئے گھر ہو جائے يضمن الله له الروح والرحمة والجواز اللہ اس کو رحمت اور مہربانی کی ضمانت دیدیتا ہے اور اس کو جنت کا راستہ کا پروانہ عطا فرماتا ہے۔
اس حدیث میں بیت کا لفظ سادہ طور پر گھر کے معنی میں نہیں ہے۔ یہ دراصل اس معنی میں ہے کہ جس معنی میں آجکل مرکز کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد تقویٰ کی تربیت کا مرکز ہے۔ مسجد کسی بستی کا وہ مقام ہے جہاں اجتماعی طور پر لوگوں کو متقیانہ زندگی کا سبق دیا جاتا ہے۔ ایک مومن کو اس دنیا میں جو دین دارانہ زندگی گزارنا ہے، اس کا مکمل نمونہ نماز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی لئے حضرت عمر فاروق نے فرمایا کہ نماز دین کا کھمبا ہے۔ جس نے اس کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا، اور جس نے اس کو ڈھادیا اس نے دین کو ڈھادیا (الصلاة عماد الدين، فمن اقامها اقام الدين ومن هدمها هدم الدين)
مسجد سے روزانہ اللہ اکبر کی آواز سنائی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسان چھوٹا ہے اور خدا بڑا۔ مسجد میں داخل ہوکر آدمی وضو کرتا ہے، یہ اس بات کا سبق ہے کہ آدمی کو ہمیشہ پاک صاف رہنا چاہئے۔ مسجد میں آدمی رکوع اور سجدہ کرتا ہے، یہ اس بات کی تعلیم ہے کہ دنیا میں تواضع کے ساتھ رہو، مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی ہے، یہ اس بات کی تربیت ہے کہ اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزارو،
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues