Al-Risala · April 1995 · page 10

آج اور کل

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۱۰

آج اور کل

اقوام متحدہ نے ۱۹۷۵ء میں رزولیوشن نمبر ۳۳۷۹ پاس کیا تھا۔ اس میں صہیونیت (zionism) کونسل پرستی (racism) کے برابر قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت انڈیا نے بھی رزولیوشن کی تائید کی تھی۔

یہودی لابی اور امریکہ اسی وقت سے اس کوشش میں تھے کہ اس رزولیوشن کو اقوام متحدہ میں ختم کرائیں۔ مگر حالات ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ خاص طور پر سوویت یونین کے زیر اثر ممالک (East Block) تمام کا تمام اس رزولیوشن کی حمایت میں تھا۔ مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجہ سے یہودی لابی اور امریکہ کو موقع مل گیا۔ ۱۶ دسمبر ۱۹۹۱ کو امریکہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس رزولیوشن کی تنسیخ کا رزولیوشن پیش کیا۔ انڈیا سمیت پورے ایسٹ بلاک نے امریکی تجویز کی حمایت کی۔ ۲۵ کے مقابلہ میں ۱۱۱ ووٹوں سے سابق رزولیوشن منسوخ کر دیا گیا۔ واضح ہو کہ بوقت رائے شماری اقوام متحدہ کے ممبروں کی تعداد ۱۶۶ تھی۔ ان میں سے ایک تعداد نے غیر جانب داری کا طریقہ اختیار کیا۔ امریکی نمائندہ ایگل برگر (Lawrence Eagleburger) نے کہا کہ وہ دور جس نے رزولیوشن ۳۳۷۹ کو پیدا کیا تھا وہ اب تاریخ کی چیز بن چکا ہے :

The era which produced resolution 3379 has passed into history. ۱۹۷۵ سے ۱۹۹۱ تک سوویت یونین کو سپر پاور کی حیثیت حاصل تھی۔ امریکہ کے خلاف اپنا جھٹکا بنانے کے لئے وہ مذکورہ رزولیوشن کی تائید کر کے اس کو قائم کئے ہوئے تھا۔ اب امریکہ کو واحد سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس نے ۱۶ سال بعد اس رزولیوشن کا خاتمہ کر دیا۔

جس کو بھی طاقت ملتی ہے وہ اپنی مرضی کے مطابق تاریخ لکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ اس دنیا میں کسی کو بھی مستقل حیثیت حاصل نہیں۔ یہاں کسی کے لئے ۱۶ سال کا موقع ہے اور کسی کے لئے ۱۶ دن کا۔ مگر ہر آدمی اپنی اس حیثیت کو بھوللا ہوا ہے ، بے زور بھی اس سے اتنا ہی بے خبر ہے جتنا کہ کوئی زور آور ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page