Al-Risala · April 1995 · page 11

آج اور کل

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۱۱

واتبعوا اا الشہوات فسوف يلقون غيا۔ نماز کو کھو دیا اور خواہشوں کے پیچھے پڑگئے۔ پس عنقریب الا من تاب و آمن وعمل صالحا فأولئك وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے۔ البتہ جس نے توبہ کی اور يدخلون الجنة ولا يظلمون شيئا ۔ ایمان لے آیا اور نیک کام کیا تو یہی لوگ جنت میں داخل (مریم ۵۹ - ۶۰) ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔

قرآن کی اس آیت میں خلف یا اخلاف سے مراد کسی امت کی بعد کی نسلیں ہیں۔ یہ بعد کو پیدا ہونے لوگ، خود قانون قدرت کے تحت، پہلی نسل کے لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے اندر مقصد کے بجائے خواہشات کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ ان کے یہاں عبادت کی ظاہری شکل باقی رہتی ہے مگر اس کی اندرونی روح نکل جاتی ہے۔ کسی امت میں بعد کو پیدا ہونے والے افراد کا ہمیشہ یہی انجام ہوتا ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جن کو از سرِ نو ایمان اور توبہ اور عملِ صالح کی توفیق حاصل ہو۔ ایمان کیا ہے۔ ایمان ایک ذہنی انقلاب کا نام ہے جس کو حدیث میں عرفان یا معرفت کہا گیا ہے (من عرف أن لا اله إلا الله دخل الجنة) یہ ذہنی انقلاب ایک ناقابلِ انتقال چیز ہے۔ وہ باپ سے بیٹے کو منتقل نہیں ہوتی۔ باپ اگر سائنس کا عالم ہو تو اس کا علم اس کی نسل کو منتقل نہیں ہوگا۔ اگلی نسل کو خود ذاتی محنت سے سائنس کا علم حاصل کرنا پڑے گا۔

اسی طرح اسلام کی معرفت ایک فرد کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اندر جو فکری انقلاب آتا ہے وہ اس کا ذاتی اکتساب ہوتا ہے ۔ وہ وراثتی طور پر اپنے آپ اگلی نسل کو نہیں مل جاتا۔ اسلام کی معرفت حاصل کرنا ایک ایسا عمل ہے جو ہر نسل میں دوبارہ جاری ہوتا ہے۔ ہر فرد اپنی ذاتی محنت سے اس کو از سرِ نو حاصل کرتا ہے۔ ایمان ایک دریافت ہے، اور دریافت مکمل طور پر ایک ذاتی اکتساب ہے، وہ کسی بھی درجہ میں وراثتی اثاثہ نہیں۔

اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ اللہ ہر سو سال کے سرے پر ایسا شخص پیدا کرے گا جو لوگوں کے دین کی تجدید کرے گا۔ یعنی اپنی مصلحانہ کوشش سے از سرِ نو انہیں ایمانی معرفت عطا کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page