Al-Risala · January 1995 · page 17

یوٹرن کی ضرورت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۷

اور نتیجہ خیز بنتا ہے جب کہ آدمی حسب ضرورت یوٹرن لینے کے لئے تیار رہے۔ زندگی کا سفر ہمیشہ خار دار اور نا ہموار وادیوں میں طے ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنے ذہنی آئیڈیل کو خارجی حالات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے بار بار نیا فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ابتدائی اندازے کے مطابق اقدام کا ایک نقشہ بناتا ہے۔ مگر عملی تجربہ کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا نقشہ اولاً درست ہونے کے باوجود پیش آمدہ حالات میں قابل عمل نہیں تھا۔

ایسے موقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی تدبیر کار کے اعتبار سے یوٹرن لے۔ یعنی ابتدائی اصول پر اپنے یقین کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو حالات کے تقاضے کے پیش نظر تبدیل کرے۔ اس طرح ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی اندازہ میں جو نقشہ کار اقدام کی صورت میں وضع کیا گیا تھا، حالات کے گہرے مطالعہ کے بعد اس کو بظاہر پسپائی میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ تا ہم جس طرح سڑک کے سفر میں یوٹرن کا مطلب حقیقتاً سمت سفر کی تبدیلی ہوتا ہے نہ کہ خود سفر کو موقوف یا معطل کرنا۔ اسی طرح زندگی کے سفر میں بھی یوٹرن کا مطلب سفر کو رکنا یا پسپائی اختیار کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ تمام تر عمل کارخ بدلنے کے ہم معنی ہے۔ یہ فرق دراصل اتجاه (direction) کے اعتبار سے ہے نہ کہ خود عمل اور اقدام کے اعتبار سے۔ کیوں کہ عمل یا اقدام تو بہر حال دونوں صورتوں میں جاری رہتا ہے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس یہی ہے۔ آج مسلمان بھی ٹھیک اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے احیاءِ اسلام اور احیاءِ ملت کے لئے بے شمار جانی اور مالی قربانیاں دیں۔ مگر ان کی تمام قربانیاں رائیگاں ہو کر رہ گئیں۔ کوششوں کا اس طرح بے نتیجہ ہو جانا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ خود کوشش میں کسی بنیادی خامی کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوششوں کا جو رخ اختیار کیا گیا وہ صحیح رخ نہ تھا۔ ایسی حالت میں انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ نیا فیصلہ لیا جائے ۔ یوٹرن کے ذریعہ اپنی کوششوں کے رخ کو صحیح سمت میں موڑ دیا جائے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اب یہی یوٹرن لینا ہے۔ بعض اسباب سے موجودہ زمانہ میں ساری

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page