یوٹرن کی ضرورت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۶
یوٹرن کی ضرورت
سینٹ لوئی (Saint Louis) امریکہ کا ایک شہر ہے۔ یہاں کی سڑکوں پر اگر آپ چلیں تو ایک مقام پر آپ جلی حرفوں میں ایک بورڈ دیکھیں گے جو ٹریفک محکمہ کی طرف سے وہاں لگایا گیا ہے۔ اس بورڈ پر لکھا ہوا ہے ــــــــ اگر تم غلط سمت میں چل پڑے ہو تو خدا یوٹرن کی اجازت دیتا ہے : If you're headed in the wrong direction, God allows U-turns. یوٹرن کا مطلب ہے انگریزی حرف یو (U) کی صورت میں واپسی۔ اگر آپ سڑک پر پچھم کی طرف اپنی گاڑی دوڑا رہے ہوں ۔ پھر آپ کو معلوم ہو کہ آپ الٹے رخ پر سفر کر رہے تھے۔ اس کے بعد آپ اپنی گاڑی کو روکیں اور سفر کا رخ بدلنے کے لئے اپنی گاڑی کو موڑ کر اس کا انجن پچھم کے بجائے پورب کی طرف کر دیں تو اسی کو ٹریفک اصطلاح میں یوٹرن کہا جاتا ہے۔ یوٹرن کا یہ اصول صرف سڑک کے سفر کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہی اصول زندگی کے وسیع تر سفر کے لئے بھی ہے۔ زندگی میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مطلوب رخ کے برعکس رخ پر دوڑنے لگتا ہے۔ اس وقت ضروری ہو جاتا ہے کہ عمل کا رخ موڑنے کے لئے یوٹرن کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ یوٹرن (U-turn) کا یہ طریقہ فطرت کا طریقہ ہے اور وہ خود اسلام میں بھی بتایا گیا ہے۔ وہ رسول اور اصحاب رسول کی سنتوں میں سے ایک اہم سنت ہے۔ مثلاً عمرہ حدیبیہ (۶ھ) کے سفر میں اسلامی قافلہ کا نشانہ یہ تھا کہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں۔ مگر قریش کی طرف سے مزاحمت پیش آنے کے بعد آپ نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ آپ حدیبیہ کے مقام سے لوٹ کر مدینہ واپس چلے آئے یہ گویا یوٹرن کی ایک عملی مثال تھی۔
اسی طرح غزوہ موتہ (۸ھ) میں جب کئی صحابہ کی شہادت کے بعد حضرت خالد کو اسلامی لشکر کا سردار بنایا گیا تو حالات کا جائزہ لینے کے بعد انھوں نے طے کیا کہ میدان جنگ سے لوٹ کر مدینہ چلے جائیں۔ اصحاب رسول کا یہ واپسی کا سفر بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے یوٹرن کی ایک مثال ہے۔ یوٹرن کا اصول جس طرح سڑک کے سفر کو نتیجہ خیز اور با مقصد بنانے کے لئے ضروری ہے، اسی طرح زندگی کے سفر میں بھی اس کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ زندگی کا سفر بھی اسی وقت با مقصد
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues