دلائل قرآن
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴
ایک تقابل
ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم نے اسلام اور بدھ مت کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں اخلاق کی بنیادیں کمزور ہیں۔ جبکہ بدھ مت میں انسانی اخلاقیات کو بہت مضبوط بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ اسلام کے پانچ ارکان (ایمان، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) صرف عقیدہ اور عبادت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ بدھ مت کے پانچ ارکان (پنچ شیل) سب کے سب انسانی اخلاق سے تعلق رکھنے والے اصول ہیں۔ بدھ مت کے پانچ ارکان یہ ہیں ــــ قتل نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جنسی بے راہ روی نہ کرنا، جھوٹ نہ ہونا، نشہ کی چیز استعمال نہ کرنا:
The five precepts (panca-sila) for the layman prohibit killing, stealing, engaging in sexual misconduct, lying, and drinking intoxicating liquor. (3/390)
مگر ایسا کہنا درست نہیں، حقیقت یہ ہے کہ بدھ مت میں جس طرح اخلاقیات کی تعلیم دی گئی ہے، اسی طرح اسلام میں بھی اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بدھ مت اخلاق کی تلقین سماجی سلوک کے طور پر کرتا ہے۔ جبکہ اسلام میں متقیانہ روش کی حیثیت سے اخلاق پر زور دیا گیا ہے۔
اسلام کے پانچوں ارکان میں اخلاق کا تصور بطور تقاضا موجود ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ وہ شخص مومن نہیں جو خود کھائے مگر اس کے قریب کا پڑوسی بھوکا رہے۔ نماز کے لئے قرآن میں ہے کہ نماز آدمی کو فحش اور منکر سے روکتی ہے۔ زکوٰۃ ایک اعتبار سے عبادت ہے اور دوسرے اعتبار سے اپنی چیزوں دوسروں کا حق تسلیم کرنا ہے۔ روزہ کے بارہ میں حدیث میں ہے کہ جو آدمی روزہ رکھ کر جھوٹ بولے اس کا روزہ روزہ نہیں۔ اسی طرح اس آدمی کا حج باطل ہو جاتا ہے جو حج کے رسوم ادا کرے مگر اس کے ساتھ وہ لڑائی جھگڑے میں ملوث ہو۔ قرآن وحدیث میں کثرت سے اخلاقیات کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں تاکہ مکارم اخلاق کی تکمیل کروں (بعثت لاتمم مکارم الاخلاق) اس کو خلاصہ اسلام بتایا گیا ہے کہ آدمی لوگوں کے درمیان اچھے اخلاق کے ساتھ رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بدھ مت میں اخلاق کی حیثیت ایک قسم کی اصلاحی سفارش کی ہے۔ جب کہ اسلام میں اس کا رشتہ خدا کے سامنے جوابدہی سے جڑا ہوا ہے۔ جوابدہی کا یہ پہلو اخلاق کی اہمیت کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues