Al-Risala · April 1995 · page 13

دلائل قرآن

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۱۳

دلائل قرآن

قرآن میں ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے اس کے حق میں اس کے پاس کوئی دلیل نہیں وَمَن يَدعُ مَعَ اللهِ إِلهاً آخَرَ لا بُرهانَ لَهُ بِهِ (المومنون ، ۱۱۷) اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک عالم نے کہا کہ موحد کہتا ہے کہ خدا ایک ہے، ممشرک کہتا ہے کہ خدا کئی ہیں۔ اس طرح ایک خدا کا وجود دونوں کے درمیان متفق علیہ ہو گیا۔ کیونکہ شرک نے جب کہا کہ خدا کئی ہیں تو ایک خدا کو اس نے پہلے ہی مان لیا۔ اس طرح ایک خدا کا وجود تو اپنے آپ ثابت ہے۔ اب دلیل کی ذمہ داری موحد پر نہیں ہے بلکہ مشرک پر ہے۔ ایک کے بعد بقیہ خداؤں کے وجود پر وہ دلیل لائے۔

یہ سادہ استدلال کا ایک نمونہ ہے۔ ہر معاملہ میں استدلال کے دو درجے ہوتے ہیں۔ ایک سادہ اور دوسرا علمی۔ کچھ لوگوں کے لئے سادہ دلیل کافی ہو جاتی ہے۔ مگر کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کا تقاضا ہوتا ہے کہ زیادہ علمی انداز میں ان کے سامنے بات کو واضح کیا جائے۔ قرآن میں دونوں سطح کے دلائل موجود ہیں۔

اوپر کی مثال برہان کی سادہ تفسیر ہے۔ مگر اس برہان کی علمی اور سائنٹفک تفسیر بھی یہاں موجود ہے۔ راقم الحروف نے اس کی وضاحت مختلف کتابوں میں کی ہے۔

خلاصہ یہ کہ جب ہم کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں تو تمام حاصل شدہ شہادتیں خالق کی وحدانیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں نہ کہ خالق کے تعدد کی طرف۔ مثلاً وسیع کائنات کے تمام اجزاء کا ترکیبی مادہ صرف ایک ہے، اور وہ نا قابل مشاہدہ ایٹم ہے۔ پوری کائنات میں ایک ہی قانون کی کارفرمائی ہے۔ کائنات میں بے شمار سرگرمیاں ہیں مگر سب کی سب متوافق طور پر کام کرتی ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان سب کا ناظم ایک ہی ہے۔ کائنات کا کوئی جزء اپنے عمل کے دوران جب کوئی مسئلہ پیدا کرتا ہے تو اس کا دوسرا جزء فورا اس کی تلافی کے لئے آجاتا ہے۔ تمام چیزیں جوڑے جوڑے کی شکل میں ہیں۔ مگر دونوں میں اتنی یکسانیت ہے کہ دونوں بالکل کاگ وھیل کی طرح مل کر کام کرتے ہیں۔ اگر دونوں کے الگ الگ خدا ہوں تو دونوں میں اس طرح کامل ہم آہنگی نہیں ہو سکتی وغیرہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page