Gulbuddin Hekmatyar
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۱۶
نے قندھار کے ملا نقیب اللہ سے گفت گو کی۔ ان کا جواب یہ تھا کہ صدر نجیب اللہ کے چلے جانے کے بعد ہم ایک کونسل بنائیں گے تاکہ تمام افغانی مل کر یہ فیصلہ کریں کہ ملک کے اوپر کون حکومت کرے۔ جہاں دور جدید جہد میں اتحاد نہ ہو، وہاں دو ر اقتدار میں اتحاد اور بھی زیادہ نا ممکن ہو جاتا ہے۔ مگر افغانی لیڈروں کو اس کی خبر نہیں۔ (الرسالہ مارچ ۱۹۸۹ء، صفحہ ۳۲-۳۴) یہ بات راقم الحروف نے ۱۹۸۸ میں لکھی تھی جب کہ تمام دنیا کے مسلمان افغانی جنگ سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے۔ اب یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ افغانستان میں آزادی حاصل ہو جانے کے بعد بھی تباہ کن لڑائی جاری ہے تو وہ سخت پریشان ہوتے ہیں۔ اس پریشانی کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ اس کو اسلامی جہاد سمجھ رہے تھے۔ مگر راقم الحروف کے لئے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ کیوں کہ میرے نزدیک افغانستان کی جنگ ایک قبائلی جنگ تھی۔ اور یہ جنگ ان کے یہاں روسی فوجوں کے داخلہ کے بہت پہلے سے جاری ہے۔
مسلم فوجوں نے ۶۴۲ء میں ساسانی سلطنت کو شکست دی جس کی سرحدیں افغانستان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے افغانستان کا رخ کیا، مگر مخصوص حالات کی بنا پر ان کو صرف عارضی کامیابی مل سکی۔ جن شہروں نے مسلم فوجوں کے مقابلہ میں اطاعت قبول کی وہاں جلد ہی ان کے خلاف بغاوت ابھر آئی۔ نویں اور دسویں صدی میں کئی مقامی سلطنتیں وجود میں آگئیں۔ شروع میں وہ خلیفہ بغداد کے ماتحت تھے۔ مگر ۶۸۲ میں انھوں نے بغداد سے علیحدگی اختیار کرلی۔ تا ہم بہت کم ایسا ہو اگر ان کے درمیان لڑائی جاری نہ ہو۔ مسلسل ان کی حالت یہ رہی کہ یا تو باہر کی طاقت سے ٹکراؤ ، اور اگر باہر کی طاقت نہ ہو تو آپس میں ٹکراؤ۔ افغانی لوگ بیشتر جاہل ہیں۔ وہ اس کو فخر سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کی ماتحتی کو قبول نہ کریں۔ یہی ان کی سب سے بڑی کم زوری ہے۔ ایک ہزار انسانوں میں ۹۹۹ آدمی جب ماتحت بننے پر راضی ہوتے ہیں، تب ایک شخص کی لیڈر شپ قائم ہوتی ہے۔ جہاں ہر آدمی کے اندر سرداری کا مزاج ہو وہاں نہ لیڈر شپ وجود میں آئے گی اور نہ اتحاد اور استحکام قائم ہوگا۔ افغانستان عرصہ دراز سے اپنے اسی مزاج کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ اگلے صفحہ پر ایک نقشہ دیا جا رہا ہے، اس سے اندازہ ہوگا کہ افغانستان میں اقتدار کی جنگ نے کس طرح عدم استحکام کی صورت پیدا کر رکھی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues