Al-Risala · April 1995 · page 20

Battle for power in Kabul.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰

ان کا معاملہ دراصل وہی معاملہ ہے جس کی تصویر قدیم عرب شاعر کے اس شعر میں ملتی ہے کہ کبھی ہم اپنے بھائی بکر پر حملہ کر دیتے ہیں جب کہ اپنے بھائی کے سوا کوئی اور موجود نہ ہو : واحيانا على بكر اخينا اذا مالم نجد الا اخانا حقیقی اسلامی جہاد فتح سے پہلے اگر ”اشداء علی الکفار“ کا نمونہ ہوتا ہے تو فتح کے بعد وہ ”رحماء بینہم“ کا نمونہ بن جاتا ہے۔ یہی صفت کسی جہاد کو تاریخ ساز عمل بناتی ہے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اصحاب رسول جو اغیار سے لڑائی کے مقابلہ میں بے لچک مجاہد بنے ہوئے تھے ، فتح کے بعد اپنوں کے لئے وہ سراپا نرم بن گئے۔

اس جہاد میں دو بڑے گروہ ، مہاجرین اور انصار شریک تھے۔ فتح کے بعد سیاسی اقتدار تمام تر مہاجرین کے قبضہ میں دیدیا گیا۔ انصار کو نہ امیر بنایا گیا اور نہ وزیر۔ مگر وہ اپنی اس ”سیاسی محرومی“ پر راضی رہے یہاں تک کہ ایک ایک کر کے اس دنیا سے چلے گئے اور کسی نے بغاوت نہیں کی۔ افغانستان کے ”مجاہدین“ میں اس کے برعکس منظر دکھائی دیتا ہے۔ اس سے پہلے وہ بیرونی دشمن سے لڑ رہے تھے۔ مگر جب بیرونی دشمن چلا گیا تو اب وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی کر کے خود آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہر افغان لیڈر سیاسی منصب پر فائز ہونا چاہتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی محرومی کے لئے راضی نہیں۔

۲۶ اپریل ۱۹۹۲ کو افغانی مجاہدین نے کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ روسی فوجیں مکمل طور پر افغانستان سے واپس چلی گئی تھیں۔ اب پورا ملک افغانیوں کے اپنے قبضہ میں تھا۔ اب ملک کے اندر مکمل امن قائم ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ چوں کہ افغانستان میں کوئی واحد لیڈر شپ موجود نہ تھی، اس لئے بہت سے دعویدار پیدا ہو گئے جن کا خیال تھا کہ ان کو حق ہے کہ وہ افغانستان پر اپنی سرداری قائم کریں۔ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے حق میں دست بردار ہونے کے لئے تیار نہ تھا۔ چنانچہ خود افغانی لیڈروں کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی۔

امریکہ نے تمام جنگجو گروہوں کو بڑی مقدار میں ہتھیار دئے تھے۔ یہ ہتھیار جو پہلے روسی فوجوں کے خلاف استعمال ہوتے تھے ، اب وہ آپس کی لڑائی میں استعمال ہونے لگے۔ کابل اور دوسرے مقامات پر راکٹوں کی بارش شروع ہوگئی۔ اس صورتحال کا اندازہ کرنے کے لئے اگلے صفحہ پر کچھ اخباری سرخیاں نقل کی جاتی ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page