Battle for power in Kabul.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۱۹
ضرورت تھی جس کو دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان کے لیڈروں نے معکوس عمل ( ریورس کورس ) کے عنوان سے اپنایا تھا۔ یعنی جنگ کا ذہن ختم کر کے کامل طور پر امن کا طریقہ اختیار کرنا۔ مگر افغانی قوم اپنے جنگ جوئی کے مزاج کی بنا پر ایسا نہ کر سکی۔ چنانچہ ملک بدستور امن سے محروم رہا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ تقریبا چھ سال تک افغانستان کے حکمراں تھے۔ افغان مجاہدین کے مسلسل حملوں کے بعد آخر کار ۱۴ اپریل ۱۹۹۲ کو انھوں نے اقتدار کی کرسی مجاہدین کے لئے خالی کر دی اور کابل کے صدارتی محل کو چھوڑ کر چلے گئے۔ روسی فوجوں کے افغانستان میں داخلہ (دسمبر ۱۹۷۹) کے بعد پچھلے تقریبا ۴ا سال کی جنگ میں ۲۰ لاکھ افغانی ہلاک ہو گئے۔ اس دوران جو دوسرے نقصانات ہوئے ان کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہے۔
ڈاکٹر نجیب اللہ کے ہٹنے کے بعد اقوام متحدہ کے نمائندہ بنان سیلون (Benon Seven) کا بل پہنچ گئے۔ وہ مسلسل کوشش کرتے رہے کہ کابل میں افغانی مجاہدین کے مختلف گروپ کی ایک مشترک کونسل بنائی جائے۔ وہ عارضی طور پر افغانستان کا اقتدار سنبھال لے۔ پھر اس کی رہنمائی میں الیکشن ہو اور جو لوگ عوام کی رائے سے چنے جائیں وہ اگلی مدت کے لئے افغانستان پر حکومت کریں۔
مگر اقوام متحدہ کے نمائندہ اور دوسرے بہی خواہوں (بشمول پاکستان) کی کوششیں نا کام ہوگئیں۔ یہاں تک کہ ۲۷ اپریل ۱۹۹۲ کے اخبارات یہ خبر لائے کہ کابل میں خود مجاہدین کے دو گروپ گلبدین حکمت یار کی جمعیت اسلامی اور احمد شاہ مسعود کی حزب المجاہدین میں گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی۔ اسٹیشنین (۲۷ اپریل) نے با معنی طور پر اس کی یہ سرخی لگائی ــــــــــ کابل میں اقتدار کی جنگ :
Battle for power in Kabul.
حقیقت یہ ہے کہ افغانی جنگ جوؤں کی لڑائی ان کے قبائلی مزاج کا نتیجہ تھی۔ تاہم یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ پچھلے تیرہ سال کے دوران روس کے براہ راست یا بالواسطہ تدخل نے انھیں یہ موقع دیدیا کہ وہ اپنی اس جنگ کو خالص اسلامی جہاد کا عنوان دے سکیں۔ مگر روسی فوجوں کی واپسی اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد اب وہ حالات ختم ہو گئے۔ نئی صورتحال یہ ثابت کر رہی ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues