Al-Risala · April 1995 · page 22

Battle for power in Kabul.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲

مئی ۱۹۹۲ کے تیسرے ہفتہ میں حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان کئی بار ملاقات کا پروگرام بنا مگر ملاقات نہ ہوسکی ۔ جنرل عبد الرشید دوستم کو صبغۃ اللہ مجددی کی حکومت نے ترقی دے کر مکمل جنرل (full general) بنا دیا۔ اب حکمت یار اور جنرل دوستم کے درمیان لڑائی چھڑ گئی ۔ چودہ سال کے سول وار کے بعد افغانستان میں دو ملین افغانی مر گئے ۔ تین ملین افغانی زخمی یا ناکارہ ہوگئے اور چھ ملین افغانی رفیوجی ہو گئے (ہندوستان ٹائمس ۲۴ مئی ۱۹۹۲) صبغۃ اللہ مجددی ۲۸ اپریل ۱۹۹۲ کو نئے افغانستان کے کار گزار (caretaker) صدر مقرر ہوئے۔ دو مہینہ بعد ۲۸ جون ۱۹۹۲ کو انھوں نے استعفا دے دیا۔ اس کے بعد برہان الدین ربانی عارضی حکومت کے صدر مقرر ہوئے ۔

المجلۃ ایک ممتاز عربی ہفت روزہ ہے ۔ وہ جدہ میں چھپتا ہے اور لندن سے شائع ہوتا ہے ۔ اس کے شمارہ ۵ - ۱۱ اگست ۱۹۹۲ (۲-۱۳ صفر ۱۴۱۳ھ) میں صفحہ ۳۰ - ۳۱ پر ایک رپورٹ افغانستان کے بارہ میں چھپی ہے ۔ اس کا عنوان ہے افغانی قوم سب سے زیادہ خسارہ میں (الشعب اکبر الخاسرین)، اس رپورٹ کا خلاصہ اس کے ان لفظوں میں بیان ہوا ہے : الحرب لم تتوقف أبداً فى أفغانستان افغانستان میں جنگ بالکل بند نہیں ہوئی ۔ آج و المعارك اليوم هي بين فصائل وہاں مجاہدین کی مختلف جماعتوں کے درمیان المجاهدين الذين يتقاتلون معرکے جاری ہیں جو کہ اقتدار کی کرسی کے على كرسى السلطة بعد أن سقطت لئے آپس میں لڑرہے ہیں ، جب کہ افغانستان عنها رموز النظام الشيوعى السابق میں سابق اشتراکیت نواز حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔

آزادی حاصل ہونے کے باوجود کابل پر راکٹوں کی بارش نے ہر جگہ مسلمانوں کو بے چین کر دیا۔ افغانی لیڈر پہلے عمرہ کے لئے مکہ لے جائے گئے اور وہاں ان کی ملاقات سعودی ذمہ داروں سے ہوئی۔ اس کے بعد اگست ۱۹۹۲ میں وہ لوگ اسلام آباد میں اکٹھا ہوئے۔ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ کئی روز تک بات چیت ہوئی۔ آخر کار مختلف افغانی لیڈروں کے درمیان وہ معاہدہ طے پایا جس کو معاہدہ اسلام آباد کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page