منیجر الرسالہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۳۱
لگائی کہ مسلمان وقتی طور پر بھول گئے کہ مسائل کے باوجود یہاں بے شمار مواقع بھی ان کے لئے موجود ہیں۔ اب تجربات کے بعد ہندوستانی مسلمان اپنے نااہل لیڈروں کی گرفت سے باہر آگئے ہیں۔ اب وہ مسائل کے خلاف چیخ پکار کے بجائے مواقع کو استعمال کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس تبدیلی نے اب مسلمانوں کو ایک نئے دور ترقی میں داخل کر دیا ہے۔
دہلی سے سوئس ایئر کی فلائٹ ۱۹۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ۲۳ دسمبر کو ٹھیک دو بجے جہاز روانہ ہوا۔ آجکل سوئس ایئر اول درجہ کی ہوائی کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ اس کا انتظام معیاری نظر آیا۔ میں نے مرطلی میں لکھوا دیا تھا کہ میرے لئے ایشیائی ویجیٹیرین کھانا (Asian Vegetarian meal) دیا جائے۔ چنانچہ مزید فرمائش کے بغیر میری سیٹ پر ویجیٹیرین کھانا پہنچا رہا۔ کچھ وقت سونے میں اور کچھ اخبار اور میگزین پڑھتے گزرا۔
انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹ্রিبیون (۲۲ دسمبر) میں ایڈورڈ ڈیمنگ (W.Edwards Deming) کے حالات شائع ہوئے تھے جن کا ابھی ۲۰ دسمبر ۱۹۹۳ کو ۹۳ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ایڈورڈ ڈیمنگ ایک امریکی ماہر شماریات (statistician) تھے۔ جاپان پر امریکی قبضہ کے بعد، ۱۹۴۷ میں وہ امریکی حکومت کے مشیر کی حیثیت سے جاپان آئے۔ ۱۹۵۰ میں انھوں نے ٹوکیو میں ایک لیکچر دیا۔ یہ لیکچر کوالٹی کنٹرول کے بارہ میں تھا۔ انھوں نے جاپانیوں کو بتایا کہ کس طرح شماریاتی طریقہ کو اشیاء کے نقص کو دریافت کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ صرف نگرانی پر اعتماد کیا جائے :
He taught Japanese how to use statistical methods to discover the cause of product defects, instead of relying only on inspections. جاپانیوں نے بہت دلچسپی لی اور فورا اس کو پکڑ لیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ جاپان کے کارخانے جو پہلے خراب سامان کے لئے مشہور تھے، اب بے نقص سامان بنانے لگے۔ انھوں نے ڈیمنگ کو اتنی اہمیت دی کہ اس کے نام پر ایک ڈیمنگ انعام (Deming Prize) جاری کر دیا۔ جاپان میں مقبولیت کے ۳۰ سال بعد اپنے وطن امریکہ میں ڈیمنگ کا اعتراف کیا گیا جب کہ فورڈ کمپنی نے ۱۹۸۱ میں اس کو اپنا مشیر مقرر کیا۔ جاپان کے لوگ اس امریکی کو کوالٹی کنٹرول کا دیوتا
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues