منیجر الرسالہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۳۰
بول رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ تبتی زبان مزید گفت گو سے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک تبتی ہے اور دوسرا بھوٹانی۔ دونوں کا تعلق بدھ مذہب سے تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ دلائی لاماکو ریلیجس ہیڈ سمجھتے ہیں یا گاڈ۔ مسٹر وانگچوک (Jigme Wangchuk) نے جواب دیا : He is everything for us. (وہ ہمارے لئے سب کچھ ہیں) یہ لوگ دلائی لاماکو خدا کی طرح مقدس سمجھتے ہیں۔ موجودہ دلائی لاما چودھویں دلائی لاماہیں ۔ ۱۹۳۰ء میں وہ تبت میں روحانی اور دنیوی حاکم مقرر ہوئے۔ مگر تبت پر چینی قبضہ کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد ۱۹۰۹ء میں وہ بھاگ کر انڈیا آ گئے ۔ تاہم تبتیوں کی نظر میں ان کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔
دہلی ایئر پورٹ پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ مسلم عورتوں کے پچھڑے پن کی بات کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک چلی ہوئی بات ہے جس کو لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے ہیں، ورنہ آج مسلم خواتین کا تعلیمی معیار چالیس سال پہلے کے مقابلے میں بہت بڑھ چکا ہے۔ اتفاق سے میرے پاس آج کا ٹائمز آف انڈیا (۲۲ دسمبر ) تھا۔ اس کے درمیانی صفحہ پر ایک رپورٹ مسلم خواتین کی تعلیمی حالت کے بارہ میں چھپی ہوئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ آج مسلم خواتین تعلیم کے میدان میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر اس میں بتایا گیا تھا کہ حال میں پٹنہ کی ایک لڑکی بہار پبلک سروس کمیشن کے انٹرویو میں شریک ہوئی۔ یہ انٹرویو آیورویدک سسٹم کی ایک پوسٹ کے بارہ میں تھا۔ مسلم خاتون نے مقابلہ میں ٹاپ کیا۔ اس نے ویدوں کے اشلوک اتنی روانی کے ساتھ سنائے کہ انٹرویو لینے والے ماہرین حیرت زدہ رہ گئے :
A Muslim girl from Patna appeared for the Bihar Public Service Commission examination for a post in Ayurvedic system and topped the list. All the examiners which included Ayurvedic experts judged her to be the best candidate. She could, with great fluency, cite vedic slokas which surprised everyone. میں نے کہا کہ پچھلے پچاس سال کے دوران نا اہل مسلم لیڈروں نے مسائل کی اتنی رت
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues