منیجر الرسالہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۳۳
ثابت ہونے والا ہو۔ بوسنیا اور کشمیر اور فلپائن اور اراکان، اور اس طرح کے ہر دوسرے مقام پر نااہل مسلم لیڈروں نے وہی غلطی کی جس کو عوامی شکل میں بیل مجھے مار' کہا جاتا ہے۔ ہر جگہ وہ خود اپنے غیر دانشمندانہ اقدام کی سزا بھگت رہے ہیں اور اس کا الزام غلط طور پر وہ فریق ثانی کے اوپر ڈالنا چاہتے ہیں۔ مزید تعجب یہ ہے کہ انھیں لوگوں کو سروس آف اسلام کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اگر یہ سروس آف اسلام ہے تو ڈس سروس آف اسلام آخر کس چیز کا نام ہوگا۔ ان کی زیادہ صحیح تصویر اس انگریزی مثل میں ہے: Fools rush in where angels fear to tread. سوئس کمپنی کا فلائٹ میگزین (Swissair Gazette) دسمبر ۱۹۹۳ دیکھا۔ اس میں سب کے سب اشتہار یا اشتہاری مضامین تھے۔ ایک اشتہار میں ایک مخصوص بریف کیس کی تصویر تھی۔ اس میں سٹلائٹ ٹیلیفون نصب تھا۔ اور یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ عالمی ٹیلیفون (global telephone) آپ اپنے ساتھ رکھئے اور پھر آپ کسی بھی مقام سے کسی بھی مقام پر ربط قائم کر سکتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں عوامی مواصلاتی انقلاب کہاں تک پہنچ گیا ہے۔
ساڑھے آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز زیورک (سوئزرلینڈ) میں اتر گیا۔ ایئر پورٹ کے اندر چلتے ہوئے ایک دیوار پر ایک روشن بورڈ نظر سے گزرا۔ یہ مقامی ہوٹل کا اشتہار تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے:
Another 10 minutes and you'll be at the Hilton singing in the shower. مزید دس منٹ، اور آپ ہلٹن ہوٹل کے غسل خانہ میں گا رہے ہوں گے) میں نے سوچا کہ کاش، دنیا کے لوگوں کو بتایا جا سکتا کہ اس سے بھی زیادہ بڑا ایک امکان ۱۰ منٹ بعد تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ وہ ہے بالایمان موت اور اس کے بعد خدا کی جنت میں داخلہ۔
زیورک میں مجھے اگلی فلائٹ کے لئے چھ گھنٹہ تک ٹھہرنا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچ کر معلومات حاصل کروں۔ مگر وسیع ایئر پورٹ میں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اتنے میں ایک سفید فام نوجوان نظر آیا جو ایک جگہ کھڑا ہوا تھا۔ اس سے میں نے کہا کہ میری مدد کیجئے ۔ کیوں کہ میں یہاں نووارد (new commer) ہوں ۔ وہ فوراً میرا ٹکٹ لے کر ساتھ ہو گیا۔ اور متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچ کر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues