منیجر الرسالہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴
ساری معلومات حاصل کیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں، میں بھی کہیں نووارد ہوں گا اور وہاں کوئی شخص اسی طرح میری مدد کرے گا۔ اس نے اپنا نام کلاؤس بتایا۔
اس سفر میں اپنے عجز کا احساس بہت زیادہ غالب رہا۔ ۲ دسمبر کی سہ پہر کو جبکہ میں نیویارک ایئر پورٹ پر بیٹھا ہوا تھا، غیر معمولی احساس عجز کے تحت یہ شعر سیدھی زبان پر آگیا: نہ گلے نہ برگِ سبزے نہ ثمر نہ سایہ دارم در حیرتم کہ دہقاں بچہ کار کشت مارا نیویارک ہی میں 1959ء میں ترکوں اور قبرص کے عیسائیوں کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جس کو زیورک معاہدہ (Zurich Agreement) کہا جاتا ہے۔ عثمانی ترکوں نے ۱۵۷۱ء میں قبرص کو فتح کیا تھا۔ ۱۹۱۴ میں وہ برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب برطانیہ کی طاقت کمزور ہوئی تو قبرص کے یونانیوں اور ترکوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا۔ ترک مسلمان قبرص کی تقسیم چاہتے تھے تاکہ مشرقی قبرص کے مسلم اکثریتی علاقہ کو علیحدہ ملک بنایا جاسکے۔ لمبے خونیں ٹکراؤ کے بعد آخر کار برطانیہ کے دباؤ کے تحت مذکورہ زیورک معاہدہ ہوا۔ اگر چہ اس کے بعد بھی امن قائم نہ ہو سکا۔ پرتشدد ٹکراؤ کے نتیجہ میں ترکوں نے بہت سی ملی ہوئی چیزیں بھی کھو دیں۔ اور اپنا سیاسی مقصود بھی حاصل نہ کرسکے۔
۲۳ دسمبر کی دوپہر کو زیورک سے لاس اینجلس کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر سوئس ایئر کی فلائٹ ۱۰۶ کے ذریعہ طے ہوا۔ راستہ میں روزنامہ فائنشئل ٹائمز ۲۳ دسمبر کا مطالعہ کیا۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ ساؤتھ افریقہ کی آخری سفید فام پارلیمنٹ نے ۴۵ کے مقابلہ میں ۲۳۷ ووٹوں سے فیصلہ کیا کہ ایک عارضی دستور بنایا جائے جو اکثریت کی حکومت کی بنیاد پر ہو اور اپریل ۱۹۹۴ء میں تمام نسلوں کی شرکت کے ساتھ الیکشن کرایا جائے۔
South Africa's last white parliament voted by 237 to 45 to adopt an interim constitution leading to majority rule after all-race elections next April. ساؤتھ افریقہ کے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ ساؤتھ افریقہ میں سفید فام لوگوں نے اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ سیاہ فام لوگوں کو ہر قسم کے حقوق سے محروم کئے ہوئے تھے۔ اس کے ۲۴ الِ سال اپریل ۱۹۹۵
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues