منیجر الرسالہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۳۷
مسجد میں دعا کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ تم کو تو لینن اور ماؤ سے دعا کرنا چاہئے۔ مگر تم اللہ سے دعا کر رہے ہو۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو ہماری ذہنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ہے۔ میں نے کہا کہ انھوں نے ایک صحیح بات غلط لفظ میں کہی۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر آدمی مشکل اوقات میں اللہ سے دعا کرنے لگتا ہے۔ مگر اس کا سبب سماج کی طرف سے ہونے والی کنڈیشننگ نہیں ہے۔ اس کا اصل سبب نیچر ہے۔ اور نیچر پیدائش سے آتا ہے نہ کہ کسی خارجی قسم کی کنڈیشننگ سے۔ ۲۴ دسمبر کو عشاء کی نماز جناب صغیر اسلم صاحب کے مکان پر پڑھی۔ نماز کے بعد جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو زبان پر یہ الفاظ آگئے: خدایا، میرے سفر کو اور میرے قیام کو، میرے چلنے اور میرے ٹھہرنے کو، میرے بولنے اور میرے چپ رہنے کو میرے لئے خیر کا باعث بنا، مجھے تمام آفتوں سے اپنی پناہ میں لے لے۔
ایک تعلیم یافتہ پاکستانی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ میاں نواز شریف کے مداح تھے۔ انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ایٹم بم بنانا نہیں چاہتی۔ میں نے کہا کہ نواز شریف کا بیان تو یہ ہے کہ بے نظیر نے تین سال پہلے ایٹمی عمل کو رول بیک کر دیا تھا۔ پھر اس کے بعد جب نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انھوں نے کیوں نہیں اس کو دوبارہ جاری کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ یہ امریکہ کے اشارہ پر ہوا۔
میں نے بہت سے پاکستانیوں سے بات کی۔ تقریباً ہر شخص امریکی مخالف بات کرتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں امریکہ کا عمل دخل کیوں۔ انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کبھی بھی امریکہ کی مخالفت کو افورڈ نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا کہ آخر کیوں۔ انھوں نے کہا: انڈیا کا خوف۔ میں نے کہا کہ یہ پاکستانی سیاست کی پہلی اینٹ ہے، اور یہ پہلی اینٹ ہی غلط ہے۔ انڈیا پاکستان کا دشمن نہیں، انڈیا پاکستان کا ایک طاقت ور پڑوسی ہے۔ اگر آپ طاقتور امریکہ سے خود اس کے ٹرم پر دوستی کر سکتے ہیں تو انڈیا سے بھی آپ ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اخوانی فکر سے متاثر تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کئی چیزیں پڑھی ہیں۔ العالم الاسلامی (۱۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء) میں آپ کا مفصل انٹرویو بھی پڑھا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کو بس پر امن داعی بنا دینا چاہتے ہیں اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues