منیجر الرسالہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۳۶
دو صاحبان میرے انتظار میں موجود تھے۔
ایئر پورٹ سے ڈاکٹر سلمان ندوی اور عبدالحمید سیجی صاحب کے ساتھ روانگی ہوئی۔ راستہ میں دونوں صاحبان سے گفتگو ہوتی رہی۔ ڈاکٹر سلمان ندوی ساؤتھ افریقہ کی ایک یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کا اپنے سابقہ موقف سے ہٹ کر فلسطینیوں سے صلح کرنا اور ساؤتھ افریقہ میں سفید فام لوگوں کا سیاہ فام لوگوں کو یکساں سیاسی حقوق دینا، دونوں کے پیچھے تشدد کا زور کام کر رہا ہے۔ اسرائیل انتفاضہ کی سرگرمیوں سے جھکا ہے اور ساؤتھ افریقہ میں جب ہم پھٹنے لگے تو ان لوگوں کو جھکنا پڑا۔ تاہم میں اس سوچ سے اتفاق کر سکا۔
عبدالحمید سیجی صاحب نے بتایا کہ آرنج کاؤنٹی میں ایشین ۵ فیصد ہیں۔ مگر یہاں کی یونیورسٹی میں ایشیائی طلبہ کی تعداد ۳۵ فیصد ہے۔ یہی حال امریکہ کی اکثر یونیورسٹیوں کا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ کی سب سے زیادہ پر سٹیج یونیورسٹی ہارورڈ میں وہاں کے ۲۰ ہزار طلبہ میں ایشیائی کافی ہیں۔ گیارہ سو کے اسٹاف میں ایک سو ایشیائی استاد ہیں۔ خود ان کے بھی دو لڑکے وہاں پڑھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں انتہائی سخت ڈسپلن ہے۔ مثلاً استاد، طلبہ یا کارکن کے سوا کوئی وہاں داخل نہیں ہو سکتا۔ حتی کہ والدین بھی نہیں۔ وہاں صرف آئیڈ نٹی کارڈ نہ پر کیمپس میں داخلہ ہوتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں لائبریریاں ۲۴ گھنٹہ کھلی رہتی ہیں۔ اور طلبہ کثرت سے اس میں مطالعہ کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ لائبریری میں فاصل بات تو در کنار ، کوئی شخص زور سے بول بھی نہیں سکتا۔ حال میں اسلام کے مطالعہ کے لئے ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک اسلامک ریسرچ کا شعبہ قائم ہوا ہے، اس شعبہ کو شاہ فہد کی طرف سے پانچ ملین ڈالر کا عطیہ دیا گیا ہے۔ یہاں میرا قیام جناب صغیر اسلم صاحب (پریذیڈنٹ اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی) کے مکان پر تھا۔ میں ان کے یہاں پہنچا تو مغرب بعد کا وقت ہو چکا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت جناب تشبیہ سید اور ان کے ایک ساتھی آ گئے۔ ان لوگوں سے دیر تک بات ہوتی رہی۔
تشبیہ سید صاحب نے بتایا کہ ایک کمیونسٹ مسلمان کو ایک بار میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھ اٹھا کر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues