Al-Risala · April 1995 · page 39

منیجر الرسالہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹

علاوہ مسلسل امریکہ میں اسلامی لٹریچر مغربی زبانوں میں پہنچ رہا ہے۔

جہاں تک مسلمانوں کا بحیثیت قوم تعلق ہے، ان کی حالت کسی بھی ملک میں اچھی نہیں۔ مگر عین اسی وقت اسلامی دعوت کا عمل ہمیشہ کی طرح جاری ہے۔ اس میں کوئی وقفہ نہیں آیا۔ یہ بھی اسلام کا ایک معجزہ ہے کہ کوئی بھی طوفان اس کے تاریخی تسلسل کو رو کنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ ایک پر چہ میں دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد کے بارہ میں نقشہ چھپا تھا۔ یہ یہاں علیحدہ صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔

۲۴ دسمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں پڑھی۔ اندر سے لیکر باہر تک پوری مسجد بھری ہوئی تھی۔ نہایت پر سکون ماحول میں نماز ہوئی۔ پہلی اذان اور دوسری اذان دونوں لاؤڈ اسپیکر کے بغیر ہوئی۔ مگر اتنے بڑے مجمع میں کسی بھی شخص نے یہ تجویز پیش نہیں کی کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان ہونا چاہئے تاکہ اسلام کی عظمت یہاں کی فضاؤں میں گونجے ۔ اس کے برعکس ہندوستان میں لاؤڈ اسپیکر اسلام کی عظمت کا نشان بن گیا ہے۔ اگر وہاں کی مسجدوں کی چھت سے لاؤڈ اسپیکر اتارنے کی بات کی جائے تو فوراً کچھ لوگ اس کو اسلامی وقار کا مسئلہ بنالیں گے ۔ اور نادان لیڈروں کی رہنمائی میں بہت سے مسلمان کفن بر دوش ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

لاؤڈ اسپیکر کی اذان امریکہ کی سوسائٹی میں غیر ضروری شور کے ہم معنی ہے۔ اب مسلمان یہ نہیں کرتے کہ جلسہ کر کے کہیں کہ یہ شور نہیں ہے، یہ اذان ہے۔ اس طرح باہر کے ملکوں میں مسلمان وہاں کے حالات سے ہم آہنگ ہو کر رہتے ہیں، چنانچہ وہاں ان کو امن بھی حاصل ہے اور ترقی کے مواقع بھی۔ ہندوستان کے مسلمان یہاں کے حالات سے موافقت کے لئے تیار نہیں۔ اس لئے یہاں وہ امن سے بھی محروم ہیں اور ترقی سے بھی۔

ایک صاحب نے مسجد میں تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکہ میں ہمارا اصل مسئلہ اپنے اسلامی تشخص کی حفاظت ہے۔ اگر ہم نے اپنا اسلامی تشخص کھو دیا تو اس ملک میں مسلمان کی حیثیت سے ہمارا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔

مغربی ملکوں میں ہر اسلام پسند" مسلمان یہی لکھتا یا بولتا دکھائی دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page