How to present Islam : A rational approach
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۴۴
ڈاکٹر سید مسلمان ندوی، ڈاکٹر حسن حتھوت، ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس، ڈاکٹر سلیمان نیا نگ، ڈاکٹر عبد اللہ غازی، ڈاکٹر اسلم عبد اللہ، ڈاکٹر فضل مرزا، ڈاکٹر احمد صقر، ڈاکٹر مدثر حسین صدیقی، ڈاکٹر یحییٰ عبد الرحمان، ڈاکٹر احسان باغی، ڈاکٹر نشار حق، ڈاکٹر نذیر خواجہ، ڈاکٹر حسن الدین ہاشمی، ڈاکٹر احمد النجار، ڈاکٹر محمد یونس، ڈاکٹر غلام نبی فائی، وغیرہ۔
میرے ساتھ عجیب قصہ ہوا۔ میں دہلی سے چلا تو میرے ذہن میں یہ تھا کہ کانفرنس میں زیادہ تر اردو داں لوگ ہوں گے اور میں زبانی تقریر کی صورت میں وہاں اپنے خیالات کا اظہار کر دوں گا۔ مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ اس میں سارا انگریزی کا ماحول ہوگا اور انگریزی ہی میں تمام تقریریں ہوں گی۔ میرے پاس وقت بہت کم تھا۔ ۲۳ دسمبر کی شام کو میں صغیر اسلم صاحب کے مکان میں اپنے کمرہ میں سو گیا۔ پہلی نیند کے بعد آنکھ کھلی تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور کل کے لئے انگریزی میں پیپر لکھنا شروع کر دیا۔ فجر کے وقت تک پانچ صفحہ کا ایک مضمون تیار ہو گیا۔ اس میں سیرت کی روشنی میں زندگی کی کامیابی کے دس اصول بتائے گئے تھے۔
اب سوال ٹائپ کرانے کا تھا۔ صغیر اسلم صاحب نے اس کو اسلامک سوسائٹی کے ٹائپسٹ کو دیا۔ مگر وہ شروع کرنے کے بعد اس کو پورا نہ کر سکے۔ کیوں کہ آج ان کو غیر معمولی مصروفیت تھی۔ اس کے بعد اس کو ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی نے لے لیا۔ وہ اس کو اپنے گھر لے گئے۔ وہاں ان کے صاحبزادے نے اس کو کمپیوٹر پر ٹائپ کیا۔ پھر انھوں نے فیکس کے ذریعہ اس کو میری قیام گاہ پر بھیج دیا۔ یہ سب کام جمعہ کی رات تک ہو گیا۔ اگلے دن اجلاس میں میں نے اس کو پڑھا۔ لوگوں نے اس کو پسند کیا۔ بہت سے لوگوں نے اس کی کاپی طلب کی۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس کو فریم کر کے ہر جگہ لٹکا دینا چاہئے۔ ڈاکٹر یحییٰ رحمان نے کہا: It is because of people like you, that Islam keeps growing. یہ مقالہ انشاء اللہ الرسالہ انگریزی میں شائع کر دیا جائے گا۔
اس کانفرنس میں امریکہ کے مختلف حصوں سے ڈیڑھ ہزار سلمان شریک ہوئے۔ یہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان میں بہت سے الرسالہ پڑھنے والے بھی ملے۔ میں نے پایا کہ جو لوگ الرسالہ برابر پڑھتے ہیں انھیں کے اندر مثبت طرز فکر ہے۔ دوسرے لوگ عام طور پر منفی طرز فکر میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues